پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں پریکٹس کرنے والے سرکاری ڈاکٹرز کے خلاف شکنجہ تیار، سخت ایکشن لے لیا گیا

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  19:52

فیصل آباد (آن لائن) پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں پریکٹس کرنے والے سرکاری ڈاکٹرز کے خلاف شکنجہ تیار کر لیا گیا، محکمہ صحت کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دینے کے باوجود پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کرناشروع کر دیئے۔ ذرائع کے مطابق پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹرز کو پرائیویٹ پریکٹس کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے ساتھ پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کو سرکاری خزانہ سے نان پریکٹس الاؤنس بھی حاصل کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت کی


طرف سے سرکاری ڈاکٹرز کو نان پریکٹس الاؤنس حاصل کرنے کے باوجود پرائیویٹ پریکٹس کر رہے ہیں ان کے خلاف فوری کارروائی کا کہا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق احمد سپرا کی طرف جاری ہونے والے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ گورنمنٹ جنرل ہسپتال سمن آباد کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عزیر حسین کے بارے دوران وزٹ دیکھا گیا ہے کہ ان کے نام فیصل آباد کے بعض کلینکس کے ساتھ ساتھ ماموں کانجن، ظفر چوک اور دیگر اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ، تحصیل کمالیہ میں اُن کا نام استعمال کیا جا رہا ہے اور اسی طرح شہر بھر میں دیگر ڈاکٹرز کے نام بھی مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں، پرائیویٹ کلینکس میں پریکٹس کرنے کے نام درج کیے گئے ہیں۔ سی ای او ہیلتھ نے ایسے سرکاری ڈاکٹرز جو پرائیویٹ پریکٹس کے علاوہ پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس پر نام لکھواتے ہیں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎