ظلم کی انتہا لودھراں میں 13افراد نے 12سالہ بچے کو نشانہ بنا ڈالا بچہ ایک سال تک خاموش، ایسا کیوں کیا؟والد کو بتا دیا

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  12:40

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کے شہرلودھراں کے علاقے گیلے وال میں 13 ملزمان نے 12 سالہ بچے کو نشانہ بنا ڈالا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان مختلف اوقات میں بچے کی آبروریزی کرتے رہے۔بچے کی ویڈیو بنا کر اسے ڈرایا دھمکایا گیا کہ اگر کسی کو بتایا تو تمہاری ویڈیو وائرل کر دیں گے جس سے تمہارے والد کی شہرت کو نقصان پہنچے گا۔بچہ خوف کے عالم میں خاموشی سے تمام ظلم سہتا رہا۔متاثرہ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ملزمان ویڈیو بنا کر بلیک میل کر رہے تھے اور گزشتہ ایک سال سے بچے کونشانہ بنا رہے تھے۔بچے نے


گذشتہ روز خاموشی توڑتے ہوئے خود پر ہونے والے ظلم سے متعلق والد کو آگاہ گیا،جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔فی الحال 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے،دیگر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا،جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائیگی، دوسری جانب اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے ،حکومت سے فوری طور پر ایسے واقعات سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

دعا

میرے پاؤں زمین پر گڑھ کر رہ گئے‘ میں آگے بڑھناچاہتا تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے ساری توانائی نکل گئی اور میں نے زبردستی ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی تومیں جلے‘ سڑے اور سوکھے درخت کی طرح زمین پر آ گروں گا‘ میں چپ چاپ‘ خاموشی سے ان کے پاس ....مزید پڑھئے‎

میرے پاؤں زمین پر گڑھ کر رہ گئے‘ میں آگے بڑھناچاہتا تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے ساری توانائی نکل گئی اور میں نے زبردستی ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی تومیں جلے‘ سڑے اور سوکھے درخت کی طرح زمین پر آ گروں گا‘ میں چپ چاپ‘ خاموشی سے ان کے پاس ....مزید پڑھئے‎