بچوں کی صحت سے نہیں کھیل سکتے، سندھ حکومت کا تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا عندیہ

  جمعہ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2020  |  20:50

کراچی(این این آئی)سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایسا لگ رہا ہے اسکولوں کو بند کرانا پڑے گا۔ میڈیا سے بات چیت میں سعید غنی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اب بھی اسکولز میں ایس اوپیز پرعمل نہیں ہو رہا،کل بھی اورنگی ٹاؤن میں 4 اسکولز سیل کئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اسکولوں اور کالجز میں 13 ہزار طلبا کےکورونا ٹیسٹ کرائے گئے ہیں،88طلبا میں کورونا مثبت آیا ہے، اگر محسوس ہوا کہ چیزیں درست سمت میں نہیں جارہیں تو اسکول بند کرنے میں


دیر نہیں کریں گے۔صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ جمعہ کو بھی اسکولوں کا دورہ کیا تو بچوں نے ماسک بھی نہیں پہنے تھے،سرکاری اسکولوں میں بھی ایس او پیزکی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں،جبکہ کالجز میں ایس او پیز کی خلاف ورزیاں زیادہ نظر آئی ہیں۔این سی او سی اور وزیراعلی سے موجودہ صورتحال پر بات کروں گا۔اس سے قبل وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے جمعہ کی صبح نیوکراچی میں اسکولز کا دورہ کیا، متعدد اسکولوں میں بارش کا پانی کھڑا ہوا تھا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ علاقہ نشیبی ہے اور پانی کی نکاسی کے لیے نالے پر تجاوزات ہیں،نالا اوورفلو ہونے کے باعث علاقے کا سیوریج کا نظام تباہ ہوگیا ہے، واٹربورڈ کا عملہ کام کررہا ہے۔سعید غنی نے کہاکہ نالے پر تجاوزات کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہے، تجاوزات کے خاتمے اور سیوریج کے نظام کو فعال کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں یہاں تجاوزات قائم کروا کرپورے نالے کو بند کر دیا گیاتھا۔ محکمہ تعلیم سندھ کا کہناہے کہ مزید ٹیسٹ مثبت آنے پر سکولوں کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیرتعلیم سعیدغنی نے کہا ہے کہ سندھ میں اسکول کھولنے کا فیصلہ موخرکردیا گیا ہے۔21 ستمبر سے چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعتتک کے اسکول اب نہیں کھولے جائیں گے۔سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ اسکول کھولنے کا فیصلہ سب سے مشکل تھا اور اسکول کھولنے سے متعلق ملک بھرمیں تشویش تھی۔ انھوں نے بتایا کہ 4دنوں میں مختلف اسکولزکادورہ کیا اور کچھ اسکولوں کو ایس او پی کی خلاف ورزی پر سیل بھی کیا گیا، سرکاری اسکولزبہترتھے،کچھ میں کوتاہیاںتھیں۔ انھوں نے کہا کہ شروعات میں سب نے کہاتھاکہ ایس اوپیزفالوکرینگے تاہم ایسا نہ ہوا،کسی بچے کووائرس ہوتا ہے تومزیدپھیلے گا۔سعید غنی نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں کھلنے والے اسکول نہیں کھلیں گے، ان میں چھٹی،ساتویں اور آٹھویں جماعت شامل ہے۔ ان کلاسز کو کھولنے کافیصلہ ایک ہفتے کیلیے موخر کیا گیا ہے کیوں کہ بہت سی کوتاہیاں نظر آرہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہکئی لاکھ ملازمین کے ٹیسٹ کرنے کیلئے وقت درکارہے۔وزیرتعلیم نے دو ٹوک کہا کہ کرونا کیسزمیں اضافہ ہوا تو آگے بھی اسکول دیکھ کر کھولیں گے،اسکولوں کو نقصان ہوگا لیکن بچوں کی صحت سے نہیں کھیل سکتے۔انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ بغیر کسی چارجز کے اساتذہ اورعملے کے کرونا وائرس ٹیسٹ کروائے جائیں،اب تک14544 ٹیسٹ لئے گئے،ان میں سے 3636 رپورٹس موصول ہوگئی ہیں،مزید رپورٹس آنا باقی ہیں،89 مثبت ہیں اور یہ شرح 2.4 ہے۔انھوں نے بتایا کہ اسکول ٹرانسپورٹ میں بھی بہت سے ایشوزہیں،2.4 کرونا وائرس کے تعلیمی اداروں میں کیسز حوصلہ افزا شرح نہیں۔ سعید غنی نے زور دیا کہ والدین کوچاہئے کہ بچوں کو ایس او پیز کے بارے میں آگاہ کریں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎