اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے موٹروےمتاثرہ خاتون کیس، ملزموں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والو ں کیلئے 25لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کر دیا

datetime 12  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 72 سے بھی کم گھنٹوں میں موٹروے خاتون متاثرہ کیس کے ملزموںتک پہنچ چکے ہیں ۔ملزمان کی گرفتار ی میں مدد کرنے والوں کو لاکھوں روپے کا انعام دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ دونوں ملزمان کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنیوالوں کو 25،25لاکھ روپے کا انعام دیا جائے

جبکہ ان کی شناخت کو ظاہر نہیںہو گی صغیہ رازرکھی جائے گی ۔ قبل ازیں آئی جی پنجاب انعام غنی نے لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہم ملزم عابد تک پہنچ گئے تھے لیکن وہ اپنی بیوی کے ہمراہ کھیتوں میں فرار ہو گیا، دونوں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔ جنہیں جلد گرفتار کرلیا جائیگا،عابد کے نام پر 4سمیں تھیں جنہوں نے وہ مختلف اوقات میں بند کراچکا تھا ، ایک سم اس کے استعمال میں تھی لیکن وہ بھی اس کے نام پر نہیں تھی ،نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے درمیان رابطہ ہواہے ، عمران خان نے عثمان بزدار کو ہدایت کی ہے کہ ملزموں کو جلد کٹہرے میں لایا جائے، نجی ٹی وی کے مطابق واقعے میں ملوث ایک ملزم عابد کا ڈی این اے ، خاتون کے حاصل کردہ نمونوں سے مل گیا، ڈی این اے نمونہ فارنزک لیبارٹری کے ڈیٹا بینک میں پہلے سے موجود تھا، دستیاب شناخت کے مطابق ملزم کا نام محمد عابد اور اس کا تعلق بہاول نگر سے ہے، وہ لاہور آتا جاتا رہتاہے۔ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے کئی وارداتوں کا ریکارڈ ہے۔ دوسرے ملزم کا نام وقار ہے ، دونوں آپس میں دوست ہیں،اس سے پہلے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کو لاہور موٹر وے کیس پر بیان دینے سے روک دیا ۔ سی سی پی او لاہور نے تین روز قبل دئیے گئے اپنے بیان میں خاتون کے رات گئے گھر سے نکلنے پر سوالات اٹھائے تھے جس پر عوام کی جانب سے ان پر شدید تنقید کی جارہی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ اب پولیس کا فوکل پرسن اس کیس پر بیان جاری کرے گا ۔دریں اثنا ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران بدفعلی کے 77 واقعات رونما ہوئے جس کے 60 فیصد ملزمان کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔پولیس ریکارڈ کے مطابق گوجرانوالہ ریجن واقعات میں 30 کیسز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا اور فیصل آباد ریجن میں12 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق

ملتان ریجن میں 9 مقدمات درج ہوئے جبکہ لاہور میں 7 واقعات رونما ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان ریجن میں6، شیخو پورہ اور راولپنڈی میں 5، 5 واقعات رپورٹ ہوئے۔بہاولپور اور ساہیوال ریجن میں ایک ایک اور سرگودھا میں 2 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 60 فیصد واقعات میں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق واقعات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور ایسے کیسز میں ملزمان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…