پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

23 ہزار تنخواہ لینے والا پٹواری کروڑ پتی بن گیا،سیاسی پشت پناہی پر کمال مہارت سے قیمتی پلاٹ من پسند لوگوں میں تقسیم

datetime 9  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)سی ڈی اے کا 23ہزار تنخواہ لینے والا پٹواری کروڑ پتی بن گیا،کنگ حماد یونیورسٹی ایوارڈ2018ء میں پٹواری محمد اکرام بھٹی نے سیاسی پشت پناہی پر7سوکنال جگہ کے بدلے734 پلاٹ کمال مہارت سے بنا کر من پسند لوگوں میں تقسیم کروا دئیے جبکہ گوگل میپ کے مطابق اسی جگہ کے334 پلاٹ بنتے تھے۔آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ 2018ء میں

کنگ حماد یونیورسٹی کا ایوارڈ ہوا تھا،اس میں چھٹہ بختاور ودیگرتین موضع کی زمین شامل تھی۔جب یہ منصوبہ شروع ہوا تو اس کی زمین7سوکنال تھی جس کے اسی وقت کے نائب تحصیلدار یاسر شاہ نے 334 پلاٹ بنائے تھے لیکن پھر ان کا تبادلہ کرایا گیا جسکے بعد اکرام بھٹی پٹواری نے سیاسی پشت پناہی کی بنا پر اس 7کنال زمین کے بدلے734پلاٹ بنا کر تقسیم کروا دئیے جس کی وجہ سے سی ڈی اے کو8سے10ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس ایوارڈ میں بہت سارے پلاٹ من پسند لوگوں اور افسران میں تقسیم کئے گئے تھے کیونکہ جو لسٹ نائب تحصیلدار نے تیار کی تھی اس کے مطابق334 پلاٹ بنتے تھے لیکن ان کے تبادلے کے بعد7کنال جگہ کے بدلے734 پلاٹ بنا کر تقسیم کروائے گئے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اکرام بھٹی پٹواری جس کی تنخواہ23ہزار روپے ہے،وہ مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹوں کا مالک ہے،زراج ہاؤسنگ سوسائٹی میں2کنال کا گھر بنارکھا ہے اور کری ماڈل ویلیج میں سرکاری رقبہ بھی مختلف سوسائٹیوں کو دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اکرام بھٹی پٹواری کے خلاف چیئرمین سی ڈی اے کے پاس بہت سی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔اس حوالے سے جب نائب تحصیلدار یاسر شاہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جب2018ء￿ میں کنگ حماد یونیورسٹی کا ایوارڈ ہوا تو میں ادھر ہی تھا لیکن بعد

میں میرا تبادلہ ہوگیا تھا یہ منصوبہ بحرین کے تعاون سے بنایا جارہا تھااس میں چھٹہ بختاور کے علاوہ دو اور موضع بھی شامل تھے لیکن شروع میں میں نے کام کیا تھا لیکن بعد میں میرا تبادلہ کردیاگیا تھا۔اس حوالے سے جب پٹواری اکرام بھٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کیلئے

ہمارا پوراعملہ شامل تھا اس میں صرف میں ہی تو نہیں تھا لیکن ہم نے اس میں کوئی کرپشن نہیں کی۔واضح رہے کہ کنگ حماد یونیورسٹی منصوبے کا کیس نیب ودیگر اداروں میں چل رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے میں کرپشن نہیں ہوئی تو یہ کیس نیب میں کیسے چل سکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…