پیر‬‮ ، 19 اکتوبر‬‮ 2026 

عاصم سلیم باجوہ کی وضاحت لیکن ان کے والد کیا کرتے تھے اور بیٹوں کے امریکہ میں گھر کیسے بنے ؟ سینئر کالم نویس کے حیران کن انکشافات

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عاصم سلیم باجوہ کے اجداد 1960ء میں جیٹی والہ سے ہجرت کرکے فیصل آباد کے قریب چک نمبر 226 ملکھانوالہ میں جا بسے اور پھر چند برسوں بعد جاٹوں کا یہ خاندان صادق آباد ضلع رحیم یار خان میں جا بسا۔روزنامہ جنگ میں شائع سینئر کالم نگار مظہر برلاس اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔ صادق آباد میں عاصم سلیم باجوہ کے والد ڈاکٹر سلیم باجوہ ایک مسیحا کے طور پر

لوگوں کی خدمت کرتے رہے، ان کی خدمت اور شرافت کی گواہی صادق آباد کے لوگ آج بھی دیتے ہیں۔ عاصم سلیم باجوہ 1984ء میں پنجاب رجمنٹ کو جوائن کرکے پاک فوج کا حصہ بنے۔ وہ فوج میں خدمات انجام دیتے رہے جبکہ ان کے بھائی اپنے کاروبار اور زمیندارے پر توجہ دیتے رہے۔چونکہ عاصم سلیم باجوہ کے والد ڈاکٹر تھے اس لئے انہوں نے اپنے فوجی صاحبزادے کی شادی بھی اپنے ایک ڈاکٹر دوست ڈاکٹر عبدالسلام کی صاحبزادی سے کی، دونوں خاندان صادق آباد ہی میں آباد ہیں۔ وقت گزرتا رہا عاصم سلیم باجوہ ٹرپل ون بریگیڈ سے ہوتے ہوئے میجر جنرل اور پھر لیفٹیننٹ جنرل بن گئے، وہ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی رہے، انہوں نے اپنے دور میں آئی ایس پی آر کو جدید ترین تقاضوں کے مطابق بنایا، وہ وزیر ستان میں وطن کیلئے لڑتے بھی رہے۔ کور کمانڈر سدرن کمانڈ بن کر دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا، جب سی پیک سست پڑ چکا تھا تو پاکستان نے اس سستی کو دور کرنے کے لئے عاصم سلیم باجوہ کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین بنایا، وطن نے جس آدمی کا انتخاب کیا اس نے سی پیک میں جان ڈال دی، یہی جان دشمنوں کے لئے وبال جان ہے۔عاصم سلیم باجوہ کے بھائی ڈاکٹر طالوت سلیم باجوہ صادق آباد کے تحصیل ناظم رہے ہیں، اس وقت عاصم سلیم باجوہ جرنیل نہیں تھے۔

جب عاصم سلیم باجوہ کے دوسرے بھائیوں نے امریکہ میں بزنس شروع کیا تو یہ اس وقت بھی جرنیل نہیں تھے۔جنرل عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ نے صرف 19ہزار ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جو اٹھارہ برس بعد واپس لے لی گئی۔ واضح رہے کہ اٹھارہ سال پہلے عاصم سلیم باجوہ جرنیل نہیں تھے۔ جنرل عاصم باجوہ کے بھائیوں کے کاروبار کا تذکرہ بھی ہو جائے۔ اس کاروبار میں باجوہ برادرز کے

علاوہ 45 اور سرمایہ کار ہیں۔ پچاس کے قریب بزنس پارٹنرز نے پچھلے اٹھارہ سال میں دس ملین ڈالرز انویسٹ کئے جبکہ ریسٹورنٹس کی مالیت 70ملین ڈالرز ہے تو جناب آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ باجکو گروپ نے 60ملین ڈالرز امریکی بینکوں سے قرض لے رکھا ہے جو لوگ امریکہ کو سمجھتے ہیں انہیں اچھی طرح علم ہے کہ امریکہ میں گھر، گاڑی اور کاروبار کے لئے بینکوں سے قرضہ مل جاتا ہے۔

اب آ جائیے جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں کے گھروں کی طرف ان لڑکوں نے امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لیں، وہاں نوکریاں کر رہے ہیں، سروس کرنے والوں کو امریکہ میں مورگیجڈ یعنی بینک سے قرضے پر لیا گیا گھر آسانی سے مل جاتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم باجوہ کے پوتوں نے اپنی نوکریوں کے باعث بینک کے قرضوں سے گھر لئے باقی عاصم سلیم باجوہ کے لئے ایک شعر کافی ہے کہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…