پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

گردشی قرض میں ماہانہ کتنے ارب اضافہ ہو رہا ہے، قابو پانے کی تمام کوششیں ناکام، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ تمام تر دعووں کے باوجود موجودہ حکومت گردشی قرضہ میں ماہانہ 45 ارب روپے کا اضافہ کر رہی ہے جبکہ سابقہ حکومت گردشی قرضہ میں ماہانہ 38 ارب کا اضافہ کرتی رہی تھی۔ گردشی قرضہ پر قابو پانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی اس

شعبہ میں اصلاحات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ سال اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ گردشی قرضہ کو ماہانہ38 ارب روپے سے کم کر کے آٹھ سے دس ارب روپے کر دیا گیا ہے جو 2020میں ختم ہو جائے گاتاہم 2020میں ہی یہ 538 ارب روپے کے اضافہ کے ساتھ 2.1 کھرب روپے سے بڑھ چکا ہے۔موجودہ حکومت نے دو سال میں گردشی قرضہ کو دگنا کر دیا ہے جبکہ سابقہ حکومت کے دور میں گردشی قرضہ ماہانہ 38 روپے کے حساب سے بڑھتا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے اسے ماہانہ 45 ارب تک پہنچا کر ان کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔گردشی قرضہ میں اضافہ کے ذمہ دار اوں کے خلاف حسب سابق کوئی کاروائی نہیں ہو گی اور انکی نا اہلی کا سارا ملبہ عوام پر ہی ڈالا جائے گا۔موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کی طرح ایماندار صارفین پر بوجھ بڑھائے بغیر گردشی قرضہ ختم کرنے کے بجائے بجلی کی قیمت میں اضافہ کا شارٹ کٹ اختیار کرنے تو ترجیح دیتی ہے۔انھوں نے کہا کہ نئے ضلعے بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔نئے اضلاع بنانے سے عوام یا معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تاہم سیاستدانوں کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔سیاستدانوں کے نام و نمود اور ناجائز خواہشات نے قرضہ کو 36 ارب روپے تک بڑھا دیا ہے جو ملک کو دیوالیہ کرنے کے لئے کافی ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے

ایک بیان میں کہا کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے ملک کے چاروں صوبوں میں چالیس غیر ضروری ضلعے بنائے گئے ہیں۔ ایک نیا ضلع بنانے پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ اس کا سالانہ خرچ دو سے تین رب روپے ہوتا ہے جو عوام کی جیب سے نکلتا ہے۔صحت تعلیم پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب جیسے اہم شعبوں کو چھوڑ کر غیر ضروری میگا پراجیکٹس بنانے کی دوڑ اور نئے

اضلاع بنانا ملکی مفاد کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔اگر نئے ضلعے بنانے سے عوام کو کوئی فائدہ ہوتا یا انھیں کسی قسم کا ریلیف ملتا تو اس وقت ملک کی یہ حالت نہیں ہوتی جبکہ اس سے سیاستدانوں کے علاوہ بیوروکریسی کو فائدہ پہنچتا

ہے کیونکہ انھیں نئی آسامیاں مل جاتی ہیں اور انکی تنخواہ، الاؤنس، رہائش، میڈیکل اخراجات،گاڑیوں اور پنشن پر بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔اگر غیر ضروری اضلاع کو ختم کر دیا جائے تو سالانہ کم ازکم ایک سو ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…