منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

گردشی قرض میں ماہانہ کتنے ارب اضافہ ہو رہا ہے، قابو پانے کی تمام کوششیں ناکام، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ تمام تر دعووں کے باوجود موجودہ حکومت گردشی قرضہ میں ماہانہ 45 ارب روپے کا اضافہ کر رہی ہے جبکہ سابقہ حکومت گردشی قرضہ میں ماہانہ 38 ارب کا اضافہ کرتی رہی تھی۔ گردشی قرضہ پر قابو پانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی اس

شعبہ میں اصلاحات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ سال اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ گردشی قرضہ کو ماہانہ38 ارب روپے سے کم کر کے آٹھ سے دس ارب روپے کر دیا گیا ہے جو 2020میں ختم ہو جائے گاتاہم 2020میں ہی یہ 538 ارب روپے کے اضافہ کے ساتھ 2.1 کھرب روپے سے بڑھ چکا ہے۔موجودہ حکومت نے دو سال میں گردشی قرضہ کو دگنا کر دیا ہے جبکہ سابقہ حکومت کے دور میں گردشی قرضہ ماہانہ 38 روپے کے حساب سے بڑھتا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے اسے ماہانہ 45 ارب تک پہنچا کر ان کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔گردشی قرضہ میں اضافہ کے ذمہ دار اوں کے خلاف حسب سابق کوئی کاروائی نہیں ہو گی اور انکی نا اہلی کا سارا ملبہ عوام پر ہی ڈالا جائے گا۔موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کی طرح ایماندار صارفین پر بوجھ بڑھائے بغیر گردشی قرضہ ختم کرنے کے بجائے بجلی کی قیمت میں اضافہ کا شارٹ کٹ اختیار کرنے تو ترجیح دیتی ہے۔انھوں نے کہا کہ نئے ضلعے بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔نئے اضلاع بنانے سے عوام یا معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تاہم سیاستدانوں کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔سیاستدانوں کے نام و نمود اور ناجائز خواہشات نے قرضہ کو 36 ارب روپے تک بڑھا دیا ہے جو ملک کو دیوالیہ کرنے کے لئے کافی ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے

ایک بیان میں کہا کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے ملک کے چاروں صوبوں میں چالیس غیر ضروری ضلعے بنائے گئے ہیں۔ ایک نیا ضلع بنانے پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ اس کا سالانہ خرچ دو سے تین رب روپے ہوتا ہے جو عوام کی جیب سے نکلتا ہے۔صحت تعلیم پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب جیسے اہم شعبوں کو چھوڑ کر غیر ضروری میگا پراجیکٹس بنانے کی دوڑ اور نئے

اضلاع بنانا ملکی مفاد کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔اگر نئے ضلعے بنانے سے عوام کو کوئی فائدہ ہوتا یا انھیں کسی قسم کا ریلیف ملتا تو اس وقت ملک کی یہ حالت نہیں ہوتی جبکہ اس سے سیاستدانوں کے علاوہ بیوروکریسی کو فائدہ پہنچتا

ہے کیونکہ انھیں نئی آسامیاں مل جاتی ہیں اور انکی تنخواہ، الاؤنس، رہائش، میڈیکل اخراجات،گاڑیوں اور پنشن پر بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔اگر غیر ضروری اضلاع کو ختم کر دیا جائے تو سالانہ کم ازکم ایک سو ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…