اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان ، جنرل باجوہ اینڈ جنرل فیض فارمولا ، شریف فیملی ’آئوٹ ‘اور بلاول بھٹو زرداری’ ان ‘ سینئر تجزیہ کار صابر شاکرکا حیرت انگیز تجزیہ

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور فوج کے درمیان لڑائی کروائی جائے اس کیلئے چاہے کوئی بھی طریقہ استعمال کیا جائے ۔ اس کیلئے دو سے تین کوششیں ہو چکی ہیں جس میں ایک کوشش سنجیدہ اور کاری وار کیا گیا جو کہ ناکام ہو گیا ، اس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ

اس وقت افواج پاکستان سول ملٹری ریلیشن شپ آئیڈل ہیں اور آئیڈل رہیں گے ،تمام فیصلے مل کر کیے جارہے ہیں لہٰذا اگر کسی کی خواہش ہے کہ یہ تعلقات خراب ہوجائیں تو ایسا نہیں ہونیوالا ۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ مشترکہ فیصلہ یہ کیا وفاق اور سندھ حکومت میں ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جائے یعنی تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی آپس میں مل جاتے ہیں تو یہ دی بیسڈ ہو جائےگاایسا ہونے سے سیاسی استحکام بھی ہو گا جہاں تک مقدمات کا معاملہ ہے وہ عدالتوں میں چلتے رہیں گے ۔  آصف علی زرداری اسلام آباد آئے تھے ان کی بھی کچھ ملاقاتیں ہوئی تھیں ۔ ان ملاقاتوں کے بعد رویوں میں کچھ نرمی آئی ، بلاول بھٹو اس سے پہلے ملاقاتیں کر چکے ہیں ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کر چکے ہیں ۔ آن بورڈ ساری اہم ترین ملاقاتیں ہو چکی ہیں ۔ آرمی چیف قمر باجوہ نے کراچی میں بھی اہم ترین ملاقاتیں کی ہیں ،انہوں واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں خواہ وہ کاروباری طبقہ ، میڈیا یا کوئی پولیٹکل ہے ، پاکستان پر سب کو ایک ہو جانا چاہیے ۔ سینئر تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین تعلقات استوار ہو جاتے ہیں تو کراچی کیلئے ایک بڑا معاشی پیکج آئے گا ، اسے مشترکہ طور پر کیسے خرچ کیا جائے گا اور نگرانی کون کرے گا تو یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو ہو گا جو کہ ہو گیا ہے ۔ وزیراعظم کراچی گئے وہاں انہوں نے ایم کیوایم ، وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سے ملاقات کی اور گیارہ سو ارب روپے کراچی کیلئے مختص کیے ہیں ۔ اس سے کچھ پراجیکٹ ایک سال ، کچھ تین سال اور کچھ پراجیکٹ پانچ سال میں مکمل ہونگے ۔ان کاکہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وہاں پر ایک بات کھل کر کہی ، بند کمرے کے اجلاسوں میں بات تھی ، اس میں انہوں نے کہا کہ تین سال تک تو میں ہوں ، اور تین سال بعد جو آرمی چیف آئے گا وہ بھی اس کو لے کر آگے چلے گا اور یہ چیز چلتی رہے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…