اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

تاریخ کی شدیدترین بارشوں نے غریب بستیوں کے ساتھ ساتھ ایلیٹ کلاس گھرانوں کو بھی نہ چھوڑا، رئیس لوگ بے بسی کی تصویر بنے رہے

datetime 29  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر،بزنس حب اورپاکستان کے تمام صوبوں کو وسائل مہیا کرنے والے شہر کرا چی کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیااور غریب ومتوسط طبقے سمیت ایلیٹ کلاس بھی خوفزدہ ہوکر رہ گئی،تاجروصنعتکاروں کی بڑی اکثریت بھی گھروں میں اپنے سامان کو خراب ہوتے دیکھتی رہی۔شہر بھر کی سڑکوں پرگڑھے پڑ چکے ہیں ،

تمام ہی علاقوں میں لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوچکا ہے یہی نہیں بلکہ بلندوبالا عمارتوں میں رہائش پذیر افراد بھی بارش اور سیوریج کے پانی سے محروم نہ رہ سکے ۔بارش کے کئی اسپیل نے کراچی کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ کچی وپکی بستیوں کے مکینوں سمیت شہر کے سب سے بڑے پوش علاقوں ڈیفنس، کلفٹن،پی ای سی ایچ ایس،بحریہ ٹائون،نیا ناظم آباد کے رہائشی بھی اپنی املاک کو تباہ ہوتے دیکھتے رہے۔ ڈیفنس جہاں تاجر،صنعتکار،سرمایہ کار،وزراء،سیاستدان،بیوروکریٹس کی رہائش گاہیں ہیں وہاں کے لوگ بھی بارش کا پانی اپنے گھروں میں داخل ہونے کے بعدبے بسی کی تصویر بنے دکھائی دیئے۔ ڈیفنس سوسائٹی کے خیابان نشاط،خیابان بخاری،خیابان ہلال،خیابان شجاعت، خیابان بدر،خیابان محافظ،خیابان شہباز سب سے زیادہ متاثر ہیں اسی طرح ڈیفنس فیز2اورفیز4میں بھی گھروں میں پانی ڈاخل ہے جسے ابھی تک نہیں نکالا جاسکا ہے۔ڈیفنس فیز 6خوفناک ترین صورتحال سے دوچار ہے جہاں گھروں کے اندر پانی جمع ہے،لوگ اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں اور مسلسل اپنی مدد آپ کے تحت گھر میں داخل ہونے والا پانی نکالنے کی جدوجہد کررہے ہیں

جبکہ کئی گھنٹوں تک بجلی بھی غائب رہی۔ ڈیفنس کا یہ علاقہ کلفٹن کنٹونمنٹ کے تحت آتاہے لیکن سی بی سی کی انتظامیہ کا دوردور پتہ نہیں ہے ۔علاقے میں رہائش پذیر معروف بزنس مین اور کے سی سی آئی کے سابق ممبر مینجنگ کمیٹی،سابق چیئرمین ماسپیڈا فیصل خلیل نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ بارش کا پانی سڑکوں اور گھروں میں ابھی تک موجود ہے، عوام بے یار و مددگار گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں،

بجلی، پانی، گیس اورگزشتہ روز کی موبائل فون سروس نہ ہونے کی وجہ سے عوام الناس کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑااور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ڈیفنس و دیگر کئی علاقوں کے مکین مکمل طور پر بے بس دکھائی دیئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جب کبھی کوئی آفت آجائے یا سانحہ ہوجائے تو کراچی کے لوگ اپنے گھر کا سامنا اور غریب اپنی روزکمائی گئی مزدوری بھی متاثرین کو بھی دیتے ہیں،

کراچی سے سانحات کے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے ٹرک بھر کر سامان بھیجے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ کراچی کی کچی اور پکی آبادیوں میں لوگ بے آسرا ہوگئے۔انکے اربوں روپے کا سامان تباہ ہوگیا۔کئی لڑکیوں کی شادی کیلئے جمع کیا گیا جہیز بھی خراب ہوگیامگر ملک بھر میں کسی بھی شہر اور صوبے سے کراچی کیلئے امداد ی سامان سے بھری ایک چھوٹی سوزوکی تک نہ آئی اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ وفاقی

اور صوبائی حکومت اپنی بقاء کی جنگ لڑنے میں اوربیانات کے ذریعہ لوگوں کی داد رسی میں مصروف رہیں مگر عملاً کوئی کام نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گھروں میں محصور لوگوں کی فوری مدد کے لئے اقدامات کئے جائیں اوراس مشکل گھڑی میں کراچی والوں پر رحم کیا جائے،سڑکوں سے پانی کو ترجیحی اور جنگی بنیادوں پر کلیئر کرنے کے لئے تمام تر ادارے مل کر کارروائیاں عمل میں لائیں ورنہ مستقبل میں کراچی کے لوگ صرف کراچی کیلئے ہی سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…