پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری، میرا سچ رہنے دیں سچ بولا تو آنچل اٹھے گا اور پھر کہیں منہ چھپانے کے نہیں رہیں گے، قومی اسمبلی میں وزراء و اپوزیشن رہنمائوں کی شدید نوک جھونک

datetime 24  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری دیدی جبکہ اپوزیشن کے شدید احتجاج اور تحفظات پر مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کی قانون سازی پر کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے ،گرفتاری ریگولیٹ کرنے کیلئے اپوزیشن ترمیم لانا چاہے تو بل کی منظوری کے بعد ہم بیٹھ سکتے ہیں،

یہ حکومت کی طرف سے کھلی آفر ہے، ایوان میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی تقریر اپوزیشن اراکین بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شہزاد اکبر کو فلور دینے پر اسپیکر پر برس پڑے اور شرم کرو کہہ دیا جس پر اسپیکر نے کہا آپ سابق وزیراعظم ہیں ، صبر کریں اور زبان درست استعمال کریں ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شاہد خاقان عباسی سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا سابق وزیر اعظم نے کہا میں اپنے الفاظ واپس لے لو نگا وزراء سچ بولیں شاہد محمود قریشی نے جواب دیاکہ میرا سچ رہنے دیں سچ بولا تو آنچل اٹھے گا اور پھر کہیں منہ چھپانے کے نہیں رہیں گے۔ پیر کو قومی اسمبلی کااجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے اینٹی منی لانڈرنگ میں دوسری ترمیم کا بل پیش کیا ۔پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ بل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کہ کسی کو بھی کسی بھی جگہ پر بغیر وارنٹ کے گرفتار کرسکتے ہیں،جب تک ہماری ترامیم شامل نہ کی جائیں یہ کالا قانون ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ اس بل میں نیب کو پراسیکیوشن میں شامل کیا گیا ہے ،ہمارا موقف ہے کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ ادارے موجود ہیں ،نیب کو کیوں ہر معاملے میں لایا جارہا ہے جس پر سپریم کورٹ بھی اعتراض کرچکی ہے ۔راجا پرویز اشرف نے کہاکہ

بغیر وارنٹ کے کسی بھی ایجنسی کو پاور آف اریسٹ نہیں دیا جاسکتا۔اینٹی منی لانڈرنگ بل کی دوسری ترمیم بل پر بات کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن ارکان کا احتجاج کیا ۔ محسن شاہ نواز رانجھا نے کہاکہ جو ترامیم حکومت اس بل میں پیش کررہی ہے اکثر وہ اپوزیشن کی پیش کردہ ہیں۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہاکہ ہم قومی سلامتی کی خاطر بلز کو سپورٹ کرتے ہیں تو حکومت این آراو کے الزامات لگا دیتی ہے۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہاکہ تین

ترامیم اب بھی ہماری نہیں لی گئیں،ہمارے تین نکات ہیں۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہاکہ عاملہ میں ثبوت دینے کی ذمہ داری الگ ہے نیب میں الگ ہے۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہاکہ نیب میں ثبوت دینا ملزم کی ذمہ داری ہے ،حکومت اس قانون میں نیب کی طرح بار ثبوت ملزم پر ڈالنا چاہتی ہے۔ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ پاکستان کی قومی سلامتی کی قانون سازی پر کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ قومی سلامتی کا ایک تاریخی حوالہ وہ ہے جب بھارتی قومی سلامتی کا مشیر بغیر ویزہ پاکستان آیا ۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی قومی سلامتی مشیر بغیر قومی سلامتی کے اداروں کی کلیئرنس کے پاکستان آیا،اگر گرفتاری کرنے والی اتھارٹی کے اختیار کو مزید شفاف بنانا ہے تو بیٹھ کر بنالیں گے ۔اجلاس کے دور ان جے یو آئی ،پی پی اور ن لیگ نے اینٹی منی لانڈرنگ بل کی مخالفت کی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…