پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آئی پی پیز سے معاہدے،عوام کو بجلی سستی ہونے کی نوید سنا دی گئی

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

اسلا آباد(آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ماضی میں توانائی کے مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کیاگیا، بجلی پیدا کونے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز)سے معاہدے ہو گئے، آئندہ بجلی سستی ہو گی،خصوصی ٹاسک فورس نے بجلی معاہدوں کاجائزہ لیا ہے، ماضی میں بغیر کسی پلاننگ کے جنریشن پلانٹس لگائے گئے، ماضی میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پرتوجہ نہیں دی گئی،

ماضی میں کیے گئے معاہدوں کی وجہ سے مہنگی بجلی ملتی رہی۔وفاقی وزیربرائے اطلاعات شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی شہزاد قاسم کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ انرجی سیکٹر کے مسئلے کوحل کرنے کے لیے ماضی میں کوشش نہیں کی گئیں، انرجی سیکٹر کا مسئلہ حل نہ کیا تو ہمارے لیے شدید مشکل ہوگی، ہماری حکومت آنے کے بعد ہم نے انرجی سیکٹر پر کام شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے مہنگے معاہدوں سے بجلی مہنگی مل رہی ہے اور ماضی کی غلط پالیسوں نے ملک کوگردشی قرضوں کی لپیٹ میں لیا کیونکہ ماضی میں بغیر منصوبہ بندی کے پاور پلانٹ لگائے گئے۔ان کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی سے صارفین اور برآمدات دونوں متاثرہوتے ہیں لیکن معاہدوں کویکطرفہ طورپرختم نہیں کرسکتے، اس لیے مذاکرات کیے، وزیراعظم کی ہدایت پرٹاسک فورس نے بجلی معاہدوں کا جائزہ لیا اور وزیراعظم نے اس لیے (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) آئی پی پیز سے مذاکرات کے لیے ٹیم تشکیل دی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے بجلی مہنگی پڑتی تھی، آئی پی پیز سے ہونے والے معاہدے کی تفصیلات شیئرکی جائیں گی، ہم کسی بھی معاہدے کو یکطرفہ طور پر نظر انداز نہیں کرسکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ بجلی جتنی مہنگی ہوگی گردشی قرضہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات زیادہ اور وصولیاں کم ہیں،

بجلی مہنگی کرنا کسی سیاسی حکومت کے لیے آسان نہیں ہے لیکن ہم بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے ہر قدم اٹھا رہے ہیں اورعوام کو سستی بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد قاسم نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایکویٹی کی ادائیگی ڈالر کے بجائے روپے میں ہوگی۔ کمیشن نے آئی پی پیز کے ساتھ یاد داشتوں پر پر دستخط کردیے ہیں۔شہزاد قاسم نے کہا کہ ماضی میں پلانٹ میں استعمال ہونے والے فیول کی مد میں کمپنیاں بہت فائدہ اٹھا رہی تھیں۔ بجلی پیدا کرنے والے نجی بجلی گھروں کی کارکردگی کا نیپرا جائزہ لے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے معاہدوں کے نتیجے میں ضرورت نہ ہونے کے باوجود بھی کمپنیوں سے پوری بجلی خریدنی ہوتی تھی۔ بجلی کمپنیوں کے منافع کا تعین بھی نیپرا کرے گا۔ نجی بجلی کمپنیوں کی طویل عرصے سے ادائیگیوں کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…