جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

وفاق کی ہدایات و سہولیات کے باوجود کے الیکٹرک اپنی ڈھٹائی پر قائم، نااہلی کی انتہا، اہم بات بتانے سے بھی قاصر

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ملک کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت کراچی کے شہری اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور، شہر کو بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے الیکٹرک کی ڈھٹائی برقرار ہے، نااہلی کا یہ عالم ہے کہ شہر کو کتنی بجلی درکار ہے، اور ادارہ کتنی بجلی پیدا کرنے کے قابل ہے، کے الیکٹرک یہ بھی بتانے سے قاصر ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاق اور صوبائی انتظامیہ کی ہدایت کے

باوجود کے الیکٹرک کی ڈھٹائی جاری ہے، کے الیکٹرک کے مطابق بن قاسم پاور پلانٹ میں فنی خرابی ہوگئی جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ شروع کردی گئی۔ادارے کی جانب سے لوڈ شیڈنگ سے مستثنی علاقوں کے صارفین کو لوڈ شیڈنگ کا پیغام ارسال کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق وفاق سے 800 میگا واٹ بجلی، اضافی فرنس آئل اور گیس ملنے کے باوجود کراچی کے مستثنی علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، کے الیکٹرک کو پی ایس او، ایس ایس جی سی کی جانب سے مطلوبہ مقدار سے زیادہ گیس اور تیل کی فراہمی کی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 700 میگا واٹ بجلی کی کمی لوڈ شیڈنگ سے پوری کی جارہی ہے، کے الیکٹرک نے فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کم کردی ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 10 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔ جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ان میں لیاقت آباد، اولڈ سٹی ایریا، صدر، کورنگی، لانڈھی، گلشن حدید، نارتھ کراچی، لیاری، کیماڑی، گلشن معمار، ڈیفنس، گلستان جوہر، گلشن اقبال، پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی، میٹھا در، کھارادر، بلدیہ، ملیر، شاہ فیصل، سرجانی اور اورنگی ٹاؤن شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک کا بوسیدہ ترسیلی نظام اور پیداوار میں کمی لوڈ شیڈنگ کی وجہ ہے، کے الیکٹرک بجلی کی پیداوار، طلب اور رسد بتانے سے بھی قاصر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…