2 سال کے دوران میں نے اپنا انتخاب درست ثابت کردیا، زلفی بخاری

  پیر‬‮ 3 اگست‬‮ 2020  |  19:44

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) کا کہنا ہے کہ 2 سال میں انہوں نے اپنا انتخاب درست ثابت کردیا ہے اور پانچ سال گزرنے پر ان کے سمندر پار پاکستانیوں کے بارے میں تصور کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنا دیا جائے گا۔ایک انٹرویو کے دوران زلفی بخاری نے کہا کہ مجھے سمندر پار پاکستانی کی وزارت چاہیے تھی،میں سمجھتا تھا کہ میں اس میں سب سے زیادہ فٹ ہو سکتا ہوں،دو سال کے دوران ہی میں نے اپنا انتخاب درست ثابت کردیا ہے،مجھ سے پہلے سمندر پار


پاکستانیوں کی وزارت کرپشن کا گڑھ تھی تاہم اب اس کو ایک ناکام ڈویژن سے بدل کر کامیاب اورسرگرم ترین محکمہ بنا دیا گیا ہے۔مشیر برائے سمندر پار پاکستانی کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کیلئے وزیراعظم عمران خان نے ان کا باقاعدہ انٹرویو کیا اور وزیر تجارت رزاق داؤد سے بھی ان سے اس موضوع پر سوالات کروائے اور ان دونوں کے مطمئن ہونے کے بعد ہی انہیں یہ قلمدان ملا۔زلفی بخاری نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ اپنے آبائی وطن میں ان کی زمینوں پر قبضہ ہے اور قبضوں کے بعد یہ معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی اور قبضہ چھڑانے کیلئے متاثرین کی مدد نہیں کر پاتی، اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کی زمینوں کے تنازعات حل کرنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرے گی اور اس سلسلے میں پہلی عدالت جلد اسلام آباد میں کام شروع کر دے گی جس کی کامیابی کے بعد صوبائی سطح پر مزید عدالتیں قائم کی جائیں گی۔مشیر برائے سمندر پار پاکستانی نے کہا کہ جعلی اور دھوکے باز ایجنٹ لوگوں کو غلط طریقے سے بیرون ملک بھیج کر نہ صرف ان کو کم تنخواہوں پر کام اور غیرمعیاری رہائش گاہوں میں قیام پر مجبور کرتے ہیں بلکہ ملک کی بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ان ایجنٹس کی سرکوبی کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں، ہم نے ایسے 406 معاملات کارروائی کیلئے ایف آئی اے کو بھیجے ہیں جب کہ اب تک 30 پاکستانی ایجنٹوں کے لائسنس کابینہ کے زریعے منسوخ کیے جا چکے ہیں، اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں 18 کمپنیوں کو وہاں کی حکومت کی مدد سے بند کروایا جا چکا ہے۔ذوالفقار عباس بخاری نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران صرف 55 ہزار کے قریب بیرون ملک پاکستانی بے روزگار ہوئے ہیں، اس کے علاوہ 50 ہزار کے قریب وہ لوگ واپس آئے ہیں جو چھٹی پر تھے جب کہ ایک لاکھ لوگ ایسے ہیں جو پہلے چھٹی پر تھے اور کورونا کی وجہ سے کام پر واپس نہیں جا سکے۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ چھٹیوں پر آنے والوں اور واپس نہ جا سکنے والوں کی بیرون ملک نوکریاں ختم نہ ہوں۔مشیر برائے سمندر پار پاکستانی کا کہنا تھا کہ او پی ایف (سمندر پار پاکستانیوں کی فاؤنڈیشن) خسارے کا شکار ادارہ تھا تاہم 8 ماہ کے اندر ہم نے اسے منافع بخش بنادیا ہے۔ ہم نے او پی ایف سوسائٹی کا گیارہ سالہ پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے اور عید کے فوری بعد اس کے فیز 5 میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی زمین ان کے حوالے کر دی جائے گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎