کسی بھی ادارے میں کرپشن یا بے ضابطگی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، کابینہ اجلاس میں کرپشن کرنے والے افسران اور ملازمین کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ

  منگل‬‮ 14 جولائی‬‮ 2020  |  23:52

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی کابینہ نے این ایف سی ایوارڈ کے متبادل کے طور پر صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی ہے ،کابینہ نے سرکاری ملازمین کو پنشن کی ادائیگیوں میں مشکلات ختم کرنے کیلئے پنشن فند قائم کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے ،بیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے انہیں مکمل قانونی معاونت فراہم کرنے اور ان ممالک سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستانیوں کو رہا کرنے کیلئےتمام سفارت خانوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ۔منگل کے روز وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز


نے کہاکہ کابینہ اجلاس کے دوران ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے اور وہ این ایف سی ایوارڈ کے متبادل کے طور پر صوبائی فنانس کمیشن کی تشکیل ہے انہوں نے کہاکہ صوبائی فنانس کمیشن کی تشکیل سے صوبوں کے تمام اضلاع کو ان کی پسماندگی اور ضروریات کے مطابق فنڈز دئیے جا سکے گے اور کسی ایک ضلع کو زیادہ فنڈز ملنے کے حوالے سے شکایات کا خاتمہ ہوسکے گا انہوںنے کہاکہ اب چاروں صوبے اپنا فنانس کمیشن بنائیں گے جو اپنے اپنے صوبوں کے تمام اضلاع کو فنڈز فراہمی کے حوالے سے سفارشات پیش کریں گی انہوںنے کہاکہ کابینہ کو بتایا گیا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے قائم کی جانے والی کمیٹی پر کام مکمل کر دیا گیا ہے اور اسے اگلے اجلاس میں پیش کردیا جائے انتخابی اصلاحات کمیٹی کا مقصد انتخابی عمل کو شفاف اور قابل اعتماد اور غیر جانبداز بنانے کے ساتھ ساتھ انتخابات سے قبل ،انتخابات کے دوران اور انتخابات کے بعدسامنے آنے والے مسائل سمیت بیرون ملک پاکستانیوں کو انتخابی عمل میں شریک کرنے کیلئے سفارشات پیش کرنا ہے انہوںنے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اس کمیٹی کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کا خاتمہ کیا جاسکے خصوصاً سینیٹ الیکشن کے دوران دو صوبوں میں ووٹوں کی خریدوفروخت کا سدبات کیا جا سکے انہوںنے بتایاکہ کہ وزیر اعظم نے ملک کے مختلف سرکاری محکموں کے سربراہوں کی تعیناتی کی راہ میں حائل رکائوٹوں کو بھی دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ ملک اور بیرون ملک مقیم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار پاکستانیوں کو تعیناتی کی راہ میں حائل رکائوٹوں کو ختم کیا جا سکے انہوںنے بتایاکہ اجلاس میں صحت کے شعبے کو مذید بہتر بنانے کیلئے نجی شعبے کو بھی شامل کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے اور ملک بھر میں سرکاری زمینوں پر ہسپتالوں کی تعمیر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دیا جائے گاانہوںنے بتایا کہ کابینہ اجلاس کو وفاقی دارلحکومت میں 10ماڈل پولیس سٹیشنز کے قیام سے متعلق بھی اگاہ کیا گیا ہے اور یہ منصوبہ بھی جلد مکمل کر لیا جائے گااجلاس میں سرکاری اداروںسے ریٹائرمنٹ لینے والے افراد کو پنشنز کی ادائیگیوں میں تاخیر پر فیصلہ کیا گیا کہ پنشن فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسحوالے سے رپورٹ اگلے 15دنوں میں کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی اسی طرح حج فنڈ کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانونی سقم کو دور کیا جائے گا انہوںنے بتایاکہ اجلا س کے دوران مختلف وزارتوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 79منصوبوں کی نشاندھی کی گئی تھی جن میں 42منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے جبکہ 37منصوبوں پرکام جاری ہے اجلاس کے دوران شمالی علاقہ جات میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو روکنے کیلئے علاقہ مکینوں کو شمسی چولہے فراہم کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگلے دو ماہ میں منصوبے پر کام شروع کردیا جائے گا کابینہ کے بیرون ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کو ان ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے انہیں مکمل قانونی معاونت فراہم کرنے اور ان کی رہائی کیلئے متعلقہ حکومتوں سے بات چیت کرنے کی بھی ہدایتکی اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت مختلف وزارتوں کے زیر انتظام اداروں میں سی ای اوز ،منیجنگ ڈائریکٹرز اور دیگر سربراہوں کی ایک سو کے قریب اسامیاں خالی ہیں جن میں 31اسامیوں پر تعیناتیوں کیلئے اشتہارات دئیے جا چکے ہیں جس پر وزیر اعظم نے تمام خالی اسامیوں کو جلد از جلد پر کرنے کی ہدایت کی وفاقی وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے ای سی سی اجلاس کے دوران گیس اور کے الیکٹرک کی بجلی کے نرخوں میں اضافے سے متعلق سفارشات کو اگلے اجلاس تک موخر کر دیا ہےانہوں نے بتایاکہ کابینہ کے عرفان احمد ربانی کو ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونیکس اور عصمت گل خٹک کو ڈائریکٹر جنرل نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل تعینات کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایاکہ ریڈیو پاکستان سمیت کسی بھی ادارے میں کرپشن یا کسی قسم کی بے ضابطگی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور کرپشن کرنے والے افسران اور ملازمین کو نشان عبرت بنایا جائے گا انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کے پاس اس وقت کوئی ایجنڈہ نہیں ہے وہ محض اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے ملک میں بے یقینی پھیلانے کی کوششیں کر رہے ہیںتاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔


موضوعات: