جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز پبلک کر دی گئیں،اپ لوڈ ہوتے ہی محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ کا سرور ڈائون ہو گیا

datetime 6  جولائی  2020 |

کراچی (این این آئی) سندھ حکومت نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ فیکٹری اور نثار مورائی کی جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹس پبلک کر دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تینوں جے آئی ٹی رپورٹس محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹس اپ لوڈ ہوتے ہی محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ کا سرور ڈائون ہوگیا۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ 36 صفحات

پر مشتمل ہے جس میں اہلخانہ، حبیب جان، حبیب حسن، سیف علی، نور محمد سمیت درجنوں دوستوں کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے 198افرادکو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ عزیر بلوچ نے لسانی اور گینگ وار تنازع میں تمام افراد کو قتل کیا جبکہ عزیربلوچ نے اثر و رسوخ کی بنیاد پر 7ایس ایچ اوز تعینات کرائے۔ عزیر بلوچ نے اقبال بھٹی کو ٹی پی او لیاری تعینات کرایا اور 2019 میں محمد رئیسی کو ایڈمنسٹر لیاری لگوایا۔ ملزم متعدد پولیس اوررینجرز اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کے بیرون ملک فرار کے باوجود ماہانہ لاکھوں بھتہ دبئی بھیجاجاتا رہا۔ 2008 سے2013 کے دوران مختلف ہتھیار خریدنے، پاکستان اور دبئی میں غیرقانونی اثاثوں کا انکشاف بھی کیا ہے۔ عزیربلوچ کی جے آئی ٹی میں اس کے16رکنی اسٹاف کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو گینگ وار میں بلاواسطہ اور براہ راست ملوث تھا۔ عزیربلوچ کو2006 میں ٹھٹھہ کے علاقے چوہڑجمالی سے گرفتار کیا گیا۔ عزیربلوچ کو 7 کیسز میں چالان کیا گیا اور 10ماہ جیل سے رہا ہوگیا۔ عزیربلوچ نے 10سے زائد کارندوں کو ایران ودیگرممالک بھجوانے، گینگسٹرز کو مدد دینے والے افسران کی تقرریاں کرانے کا اعتراف اور آپریشن میں اپنے استاد تاجو کو دبئی پھر افریقہ منتقل کرانے کا اعتراف کیا۔ عزیربلوچ نے اسلحہ لالہ توکل اور سلیم پٹھان سے خرید کر ساتھیوں کو دینے اور ایران سے پیدائشی سرٹیفکیٹ،

شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لینے کا اعتراف بھی کیا۔ ایران سے بوگس شناختی دستاویزات بنوانے میں خاتون عائشہ نے ساتھ دیا۔ عزیر بلوچ نے2009کے بعد اسلحہ اپنے ساتھیوں کودینے کااعتراف کیا۔ عزیربلوچ کی ہدایت پرگینگ وار کارندے مال بردار ٹرک لوٹتے تھے اور مال بردارٹرک فروخت کرنے کے بعد 15 لاکھ کاحصہ دیا جاتا تھا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں عزیربلوچ پر آرمی ایکٹ کے تحت جاسوسی کامقدمہ چلانے سمیت دیگر سفارشات کی گئی ہیں۔ عزیر بلوچ نے غیرملکیوں کیلئے جاسوسی کی۔ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی اس لیے نشاندہی پر برآمد اسلحہ اور بارودی مواد پر نیا مقدمہ درج کیاجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…