بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

انسانیت کی خدمت کرنے والے2پولیس افسران فرائض کی ادائیگی کے دوران کرونا وائرس سے زندگی کی بازی ہار گئے

datetime 3  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پولیس کے دو سینئر افسران سمیت 3 اہلکار کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے جس کے بعد اس مہلک وائرس سے جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 16 ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق پولیس ترجمان کے مطابق سندھ پولیس کے افسران و جوانوں نے قدرتی آفات سمیت ہرمشکل گھڑی اورحالات میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے

اپنا کردار ادا کیا ہے۔نجی ٹی وی جیو کی رپورٹ کے مطابق ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس پی کمپلینٹ سیل ضلع ملیر شکیل احمد کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے احساس پروگرام کے تحت سوئیڈش کالج میں بطور انچارج ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ شکیل احمد دو ہفتے قبل 19 جون کو کورونا سے متاثر ہوئے اور اسپتال میں زیرعلاج تھے اور جمعرات کو چل بسے۔ شہید نے لواحقین میں ایک بیوہ اور چار بچے سوگوار چھوڑے ہیں۔ شکیل احمد نے یکم نومبر 1984کو بحیثیت اسٹنٹ سب انسپیکٹر پولیس فورس جوائن کی، وہ ایک سال قبل اٹھارہ گریڈ میں ترقی ملنے کے بعد ضلع ملیر میں ایس پی پبلک کمپلین سیل تعینات ہوئے۔پولیس ترجمان کے مطابق سندھ پولیس کے ایک ڈی ایس پی احمد نواز کا بھی کرونا وائرس کے باعث انتقال ہوگیا۔ احمد نواز 1986 میں بطور اے ایس آئی سندھ پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔ وہ ایس ایس یو کے ڈی ایس پی کے طور پر بلاول ہاؤس لاہور میں تعینات تھے۔ احمد نواز کا 17 جون کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس کے اے ایس آئی عبدالرحیم الدین بھی جمعرات کی صبح کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگئے۔ متوفی کے ای ایس سی تھانے میں تعینات تھے جو کورونا وائرس کی وجہ سے ایس آئی یو ٹی میں زیر علاج تھے۔ترجمان کے مطابق آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے فرائض کی ادائیگی کے دوران کورونا میں مبتلا ہوکر شہید ہونے والے ایس پی شکیل اور ڈی ایس پی احمد نواز کی خدمات کو سراہتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ترجمان کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سندھ پولیس میں کورونا کے 90 نئے کیسز سامنے آئے اور جمعرات کی صبح تک سندھ پولیس کے کورونا وائرس کا شکار افسران اور جوانوں کی تعداد 1345 ہوگئی۔ شہداء میں 14 کا تعلق کراچی جب کہ دو کا حیدرآباد رینج سے تعلق ہے۔ اب تک 370 پولیس اہلکار صحتیاب بھی ہو چکے ہیں جب کہ زیر علاج افسران اور جوانوں کی تعداد 961 ہے۔ ترجمان کے مطابق کورونا کے خلاف ہراول دستے کے طور پر کام کرنیوالے افسران اور جوان خدمت انسانیت کے لیے انتہائی پرعزم اوربلندحوصلہ ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…