جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

’’ فوج نے بھٹو کو وزیراعظم کی کرسی سمیت اٹھا کر باہر پھینک دیا ‘‘ بھٹو نے کرسی کے بازو پر مکا مار کر کہا ”میں کم زور ہو سکتا ہوں لیکن یہ کرسی کم زور نہیں‘‘نواب زادہ نصراللہ نے اس وقت بھٹو کا قوم سے خطاب دیکھ کر کیا پیش گوئی کی تھی جو سچ ثابت ہوئی تھی ، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 3  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’کرسی کسی کی وفادار نہیں ہوتی جناب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 12 مارچ 1977ءکو قوم سے خطاب کیا تھا‘ الیکشن 7 مارچ کو ہوئے تھے‘ اپوزیشن کی نو جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد کے نام سے متحدہ اپوزیشن بنائی اور بھٹو صاحب کے خلاف الیکشن میں کود پڑے‘ قومی اسمبلی کی کل 200 سیٹیں تھیں‘

بھٹو صاحب نے 155 نشستیں حاصل کر لیں جب کہ پی این اے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے باوجود بمشکل صرف 36 سیٹیں لے سکی۔اپوزیشن نے دھاندلی کا الزام لگا کر الیکشن کے نتائج مسترد کر دیے‘ ملک میں تحریک شروع ہو گئی اور شہرشہر احتجاج ہونے لگا‘ ذوالفقار علی بھٹو اندر سے وڈیرے تھے‘ احتجاج ان کی طبع نازک پر گراں گزرا چناں چہ وہ 12 مارچ کو قوم کے سامنے بیٹھ گئے‘ پاکستان ٹیلی ویژن کے ذریعے عوامسے خطاب کیااور خطاب کے دوران جذباتی ہو گئے‘بھٹو نے کرسی کے بازو پر مکا مار کر کہا ”میں کم زور ہو سکتا ہوں لیکن یہ کرسی کم زور نہیں‘ میں جس کرسی پر بیٹھا ہوں یہ بہت مضبوط ہے“ وہ جب یہ کہہ رہے تھے تو ان کے لہجے میں غرور اور چہرے پر تکبر تھا‘ نواب زادہ نصر اللہ اس وقت قومی اتحاد میں شامل تھے‘ نواب صاحب کو اللہ تعالیٰ نے لہجے کی شائستگی اور زبان کی شستگی سے نواز رکھا تھا‘ وہ یہ تقریر سن رہے تھے‘ وہ کرسی کے بازو پر بھٹو کا بازو دیکھ کر مسکرائے اور ساتھیوں سے کہا ”مبارک ہو‘ بھٹو اب جا رہا ہے“ ساتھیوں نے حیرت سے پوچھا ”آپ کیا فرما رہے ہیں“ ۔نواب زادہ صاحب بولے ”تاریخ گواہ ہے جب بادشاہ اپنے بجائے اپنے تخت کی قسمیں کھانے لگیں تو ان کے جانے کا وقت آ چکا ہوتا ہے‘ بھٹو صاحب اب اپنی ذات کی بجائے کرسی پر اعتماد کر رہے ہیں اور کرسیاں کبھی کسی کی وفادار نہیں ہوتیں“ نواب زادہ نصراللہ کی یہ پیش گوئی وقت نے سچ ثابت کر دی‘ مارچ کے بعد مہینے‘ ہفتے اور دن بدلتے رہے اور بھٹو اور ان کی کرسی کم زور ہوتی رہی یہاں تک کہ 5 جولائی 1977ءآ گیا اور فوج نے بھٹو صاحب کو ان کی مضبوط کرسی سمیت اٹھا کر باہر پھینک دیاتاہم یہ درست ہے فوج بھٹو کو تاریخ اور سیاست سے نہ نکال سکی‘ یہ آج بھی ہر جیالے کے دل میں زندہ ہیں مگر یہ بھی سچ ہے بھٹو صاحب کو اپنی مضبوط کرسی دوبارہ نصیب نہ ہو سکی‘ وہ ایک افسوس ناک موت کا شکار ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…