پاکستان میں زمین کے 38 فیصد رقبے پر صحرائی ٹڈی دل کی افزائش جاری، انتہائی تشویشناک بات سامنے آ گئی

  ہفتہ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2020  |  23:35

کوئٹہ ( آن لائن ) اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچرل آرگنائزیشن(ایف اے او)نے کہا ہے کہ پاکستان میں زمین کے 38 فیصد رقبے پر صحرائی ٹڈی دل کی افزائش جاری ہے، ساتھ ہی خبردار کیا ہے اگر وقت پر کیڑے پر اسپرے نہ کیا گیا تو پورا ملک ٹڈیوں کے حملے کا سامنا کرسکتا ہے ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف اے او کی جانب سے جاری کردہ 'صحرائی ٹڈیوں کے بحران پر اپیل' کی دستاویز کے مطابق 38 فیصد زمینی رقبے کا 60 فیصد بلوچستان، 25 فیصد سندھ اور 15 فیصد پنجاب پر مشتمل ہے رپورٹ میں


کہا گیا کہ ٹڈی دل کے بڑے گروہ سیستان میں اور بلوچستان کے شمال میں جنوب خورستان منتقل ہوئے ہوگئے ہیں جہاں وہ انڈے دے رہے ہیں مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر استعداد کی کمی ہے جبکہ ایف اے او نے ڈیٹا کلیکشن اور حقیقی وقت میں اس کی منتقلی کے لیے 'ای لوکسٹ 3 جی ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز' جیسے آلات اور تکنیکی استعدادی صلاحیت کے لیے گاڑی والے اسپریئر فراہم کررہا ہے لیکن مزید مدد کی ضرورت ہے مزید یہ کہ پاکستان میں تحفظ خوراک اور زراعت کے کام کرنے والے گروپ (ایف ایس اے ڈبلیو جی) ایف اے ڈبلیو اور عالمی خوراک پروگرام کے تعاون سے وزات قومی تحفظ خوراک کے ساتھ شراکت داری میں صحرائی ٹڈی دل سے متاثرہ 38 اضلاع میں امداد کی ضرورت سے متعلق مشترکہ منصوبہ بندی کر رہا ہے ایف ایس اے ڈبلیو جی نے علاقائی بیوروز کے ساتھ شراکت میں تشخیصی آلات تیار کیے ہیں اور وہ ایف اے او اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ ریموٹ ٹول ایپلی کیشن پر کام کر رہا ہے ایف اے او کا کہنا تھا کہ اس نے صحرائی ٹڈی دل کی تعداد کو ہر ممکن حد تک روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ اسے مکمل طور پر بڑھنے سے روکا جاسکے، ساتھ ہی انہوں نے صحرائی ٹڈی دل کے پھیلا کو روکنے کے لیے عطیات دہندگان سے 2 کروڑ 37 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کی امداد کی اپیل کی دستاویز میں ایک بدترین صورتحال (تباہ کن اثرات)کے لیے ایک انتہائی ابتدائی تخمینے کے مطابق 3 صوبوں میں 34 ہزار گھرانے (تقریبا 2 لاکھ 38 ہزار افراد)ضرورت مند ہوں گے، تاہم اگر جاری نگرانی اور اس کو کنٹرول کرنے کے مثر اقدامات کیے جاتے ہیں تو اس موقع پر صورتحال بدترین نہیں دکھائی دیتی لہذا اس لیے ایک درمیانے درجے کی صورتحال پر غور کیا گیا ہے جس کے تحت تقریبا 19 ہزار 500 گھرانے (تقریبا ایک لاکھ 36 ہزار 500 لوگوں)ضرورت میں ہوں گے علاوہ ازیں منصوبے میں مختلف ربیع اور خریف کی فصلوں کی پیدوار کے نقصان کا تخمینہ 25، 50 اور 75 فیصد کے حساب سے لگایا گیا ہے بیع کی فصلوں کے تخمینی نقصانات کی مالیاتی قیمت 25 فیصد پر 2 ارب 20 کروڑ ڈالر، 50 فیصد پر 4 ارب 40 کروڑ ڈالر اور 75 فیصد پر 6 ارب 60 کروڑ ڈالر لگائی گئی ہے، اس طرح خریف کی فصلوں کے لیے یہ ترتیب 2 ارب 90 کروڑ ڈالر، 5 ارب 80 کروڑ ڈالر اور 8 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ 20-2019 ربیع سیزن کٹائی میں ہے جبکہ مئی میں بلوچستان اور سندھ جبکہ مئی اور جون میں خیبرپختونخوا اور پنجاب میں خریف کی کاشت شروع کردی جائے گی رپورٹ میں کہا گیا کہ بہار کی افزائش نسل کا وہ سیزن مئی اور جون کے دوران بلوچستان کے ساحلی اور داخلی علاقوں میں جاری رہے گا جب ٹڈیوں کی بڑی تعداد نشونما پاجائے گی اور یہ جمگھٹے بنا لیں گے جبکہ شاید کچھ چھوٹے حملے بھی کرسکیں۔


موضوعات: