رواں سال ویکسین تیار نہیں ہوسکتی ،  وزیر اعظم  نے صوبوں کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی درخواست کر دی

  جمعہ‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2020  |  23:34

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے تمام صوبوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی درخوراست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک مزید لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہوسکتا ،ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ گزارا کرنا ہوگا،ایس او پیز کے تحت تمام کاروبار کھولیں گے ،ماہرین کہہ رہے ہیں کہ رواں سال تک کورونا وائرس کی کوئی ویکسین نہیں تیار ہوسکتی اور وائرس کا اس کے بغیر علاج نہیں،عوام حکومتی ہدایات پر عمل کر یں، لاک ڈاؤن سے اس وقت 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں ہماری میڈیکل کمیونٹی بتائے کہ ہم ان کا کیا کریں؟ ہم کتنے عرصے تک


12 ہزار روپے پہنچاسکتے ہیں اور 12 ہزار روپے کب تک ایک خاندان کے لیے کافی ہوں گے؟۔جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں مہلک وائرس کے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر غور کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کو لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے اور بعد کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ مجھے ڈاکٹروں اور نرسز پر موجود دباؤ کا احساس ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک جانب کورونا اور دوسری جانب معاشرے پر اثرات کو دیکھنا پڑتا ہے، اگر کوئی مجھے یقین دلادیتا کہ ایک یا 3 ماہ تک لاک ڈاؤن سے وائرس ختم ہوجائیگا تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں تھی ہم ملکی وسائل کا استعمال کرکے ایسا کرنے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال تک کورونا وائرس کی کوئی ویکسین نہیں تیار ہوسکتی اور وائرس کا اس کے بغیر علاج نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن یہ ہے کہ لوگوں کو بند کردیں وائرس نہیں پھیلے گا لیکن وائرس ختم نہیں ہوگا، ووہان اور جنوبی کوریا میں دوبارہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وائرس تو ہے جب بھی لوگوں کو ملنے کا موقع دیں گے تو وائرس پھیلے گا ہمیں اس وائرس کے ساتھ گزارا کرنا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ کیا ہم ملک میں مسلسل لاک ڈاؤن نافذ کرسکتے ہیں،پاکستان میں لاک ڈاؤن سےمتاثر لوگوں کیلئے مشکل سے 8 ارب ڈالر کا پیکج دیا، امریکا نے 2200 ارب ڈالر، جرمنی نے ایک ہزار ارب یورو اور جاپان نے 1200 ارب ڈالر کا پیکج دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا ہم امریکا،جرمنی اور چین جیسا لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے اس وقت 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں ہماری میڈیکل کمیونٹی بتائے کہ ہم ان کا کیا کریں، ہم کتنے عرصےتک 12 ہزار روپے پہنچاسکتے ہیں اور یہ 12 ہزار روپے کب تک ایک خاندان کے لیے کافی ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ آئندہ دنوں میں کیسز بڑھنے ہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے ذریعے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کا تجزیہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز تو بڑھیں گے لیکن اگر ان لوگوں کو روزگار نہ دینا شروع کیا تو کورونا سے زیادہ لوگوں کےبھوک سے مرنے کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ باقی ممالک تو شاید اپنی معیشت کو بچارہے ہوں ہم تو اپنے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچارہے ہیں اب لاک ڈاؤن کھولنا ہماری مجبوری ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے ان کے باعث اب تک حالات قابو میں ہیں، 24 اپریل کو جب میں نے خطاب کیا تھا اس وقت کورونا کے مثبت کیسز کا تخمینہ 52 ہزار 695 اور ایک ہزار 324 تھی تاہم کیسزاور اموات کی تعداد تخمینوں سے کافی کم ہے اور ہمارے ہسپتالوں میں اب تک وہ دباؤ نہیں پڑا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کیسز میں اضافے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے اور جون کے آخر تک ہمارے ہسپتالوں کی سہولیات موجود ہوں گی اور تخمینوں کے مطابق ہر 100 میں سے صرف 4 یا 5 کو ہسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے جس سے انتہائی نگہداشت یونٹ(آئی سی یو) اور اس صلاحیت میں اضافے کے لیےتیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بحران کے دوران قوم پر اس کے پھیلاؤ کو تیزی سے روکنے میں ذمہ داری سے کردار ادا کریں۔عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے باعث بیروزگار ہونے والے افراد کو کورونا ریلیف فنڈ سے نقد رقم پیرسے دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت غریب عوام کی سہولت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے سےمتعلق صوبوں کے ساتھ اتفاق رائے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دن میں 10 دفعہ سوچتا ہوں کہ سفید پوش لوگ کیسے گزارا کررہے ہوں گے، باقی ممالک اپنے عوام کو کورونا سے بچارہے ہیں، ہم تو اپنے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچارہے ہیں، لاک ڈاؤن کھولنا ہماری مجبوری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے فیصلہ کرتے ہیں اور کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرتے جس میں ایکصوبہ بھی نہ مان رہا ہوں، اس لیے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ نہیں ہوسکا، کیونکہ ایک دو صوبوں کو اس سے کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے، میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دیں، کیونکہ ٹرانسپورٹ بند کرکے غریب کو نقصان پہنچا رہے ہیں، امریکا اور یورپ جہاں ایک دن میں 800 لوگ مررہے ہیں، انہوں نے بند نہ کی تو ہم نے کیوں بند کرکے رکھ دی، دوبارہ درخواست کروں گا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎