بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کو دکھانے والے فوٹوگرافرز نے ایوارڈ جیت لیا

datetime 6  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم دنیا کو دکھانے والے تین کشمیری فوٹوگرافرز نے صحافت کا اعلان ترین ایوارڈ جیت لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے وابستہ تین فوٹوگرافرز چنی آنند، مختار خان اور ڈار یاسین نے اعلیٰ ترین صحافتی ایوارڈ پلٹزر حاصل کرلیا۔تینوں فوٹوگرافرز کو مقبوضہ کشمیر میں

بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو تصاویر شکل میں دنیا کے سامنے لانے پر مذکورہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔پلٹزر ایوارڈ امریکا کا اعلیٰ ترین و معتبر صحافتی ایوارڈ ہے، جو ہر سال صحافت اور ٹی وی ڈراما کی متعدد کیٹیگریز میں دیا جاتا ہے۔پلٹزر ایوارڈ صحافتی و ٹی وی ڈرامے جیسے شعبوں کی مجموعی طور پر 23 کیٹیگریز میں دیا جاتا ہے اور تینوں کشمیری فوٹوگرافرز کو صحافت کے شعبے کی فیچر فوٹوگرافی کیٹیگری میں ایوارڈ دیا گیا۔تینوں فوٹوگرافرز کو مجموعی طور پر ایک ہی ایوارڈ دیا گیا اور ایوارڈ میں ملنے والی رقم بھی مجموعی طور پر تینوں فوٹوگرافرز میں یکساں تقسیم کی جائے گی۔پلٹزر ایوارڈ کی تقریب آن لائن منعقد کی گئی تھی اور جیتنے والوں ورچوئل انعامات سے نوازا گیا، تاہم ادارہ جیتنے والے تمام افراد کو ایوارڈز اور رقم پہنچا دے گا۔تینوں فوٹوگرافرز کو گزشتہ سال بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر میں نافذ کیے گئے کرفیو کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر مظالم کی تصاویر سامنے لانے پر انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔تینوں فوٹوگرافرز نے سخت کرفیو اور لوگوں کے باہر نکلنے کے باوجود جان کی پرواہ کیے بغیر کیمروں کو چھپاتے ہوئے اور کئی کئی گھنٹوں تک ایک تصویر کا انتظار کرنے کے دوران بھارتی مظالم کی ایسی تصاویر سامنے لائیں تھیں جنہیں دیکھ کر دنیا اشکبار ہوگئی۔تینوں فوٹوگرافرز نے درجنوں تصاویر کھینچی تھیں اور ادارے کی جانب سے شائع کیے گئے ان کے فیچرز پر انہیں ایوارڈ دیا گیا۔کشمیری فوٹوگرافرز کے علاوہ مجموعی طور پر 23 کیٹیگریز میں پلٹزر ایوارڈز دیے گئے اور خبر رساں ادارے رائٹرز نے بریکنگ نیوز فوٹوگرافی کے شعبے میں ایوارڈ حاصل کیا۔رائٹرز کو ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کھینچی گئی

تصاویر کو سامنے لانے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔اسی طرح امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو پبلک سروس کی کیٹیگریز میں مشترکہ ایوارڈ بھی دیا گیا؛ علاوہ ازیں دونوں اداروں نے دوسری کیٹیگریز میں بھی ایوارڈز جیتے۔تحقیقاتی رپورٹنگ کا ایوارڈ بھی نیویارک ٹائمز اور امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو مشترک طور پر دیا گیا۔ڈرامے اور کتابوں کے شعبے میں بھی پلٹزر ایوارڈز دیے گئے

اور فکشن کی کیٹیگری میں امریکی لکھاری کولسن وائٹ ہیڈ کو ایوارڈ دیا گیا، انہوں نے دوسری بار ایوارڈ حاصل کیا اور مجموعی طور پر وہ اب تک کے چوتھے لکھاری ہیں جنہوں نے یہ ایوارڈ دوسری مرتبہ حاصل کیا۔پلٹزر اکیڈمی نے معروف آنجھانی تحقیقاتی خاتون صحافی ایدا بی ویلز کو خصوصی ایوارڈ بھی دیا اور ادارے کی جانب سے ان کے ادارے کو 50 ہزار امریکی ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔ایدا بی ویلز 1931 میں چل بسیں تھیں، انہوں نے امریکا میں سیاہ فام افراد کی غلامی کی تجارت اور سیاہ فام افراد کے خلاف نسلسی تعصب سمیت دیگر اہم موصوعات پر تحقیقاتی رپورٹنگ کی تھی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…