جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

2018 کے انتخابات کے بعد حکومت بنانے کیلئے چند لوگوں کو جہانگیر ترین ہی لے کر آئے تھے، وہ تحریک انصاف کے نہیں جائیں گے کیونکہ ۔۔۔ تہلکہ خیز انکشاف کر دیا گیا 

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے تارکین وطن پاکستانی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ چینی اور آٹے کے بحران کی تحقیقات کا نتیجہ کچھ بھی نکل آئے ،جہانگیر ترین تحریک انصاف کی مخالفت نہیں کریں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں زلفی بخاری نے کہاکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کیلئے بہت سی خدمات دی ہیں

اور 2018 کے انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے لیے چند لوگوں کو جہانگیر ترین ہی لے کر آئے تھے۔انہوںنے کہاکہ جن لوگوں جہانگیر ترین لے کر آئے وہ پارٹی میں عمران خان کے لیے آئے تھے، جہانگیر ترین یا زلفی بخاری کے لیے نہیں، یہ کردار جہانگیر ترین کو اس لیے ملا کیونکہ وزیراعظم کے قریب تھے، ان کی وجہ سے لوگوں نے پی ٹی آئی کی حکومت قائم کرنے میں مدد کی تاہم جہانگیر ترین کی جگہ یہ کردار کسی اور کو بھی مل سکتا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ وزیراعظم مکمل طور پر جہانگیر ترین ان پر انحصار کرتے ہیں۔زلفی بخاری نے چینی اور آٹا بحران پر ایف آئی اے کی رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کی باتیں لوگ کر رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، وزیر اعظم عمران خان اور جہانگیر ترین میں بہت پرانا اور مضبوط تعلق ہے اور میرے نزدیک اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ وہ اپنی علیحدہ پارٹی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے پہلے بھی پی ٹی آئی کی خدمت کی ہے اور یقین ہے کہ آئندہ بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں، اور دونوں کے درمیان ایک قریبی تعلق ہے اور ابھی تو ابتدائی انکوائری رپورٹ آئی ہے جب تک مکمل کیس کھل کر سامنے نہیں آئے گا وزیر اعظم جہانگیر ترین کے متعلق کوئی غلط فہمی قائم نہیں کریں گے۔انہوں نے وفاقی کابینہ میں اختلافات کی خبروں کی بھی تردید کی اور کہا کہ میڈیا غلط انداز میں خبروں کو پیش کرتا ہے دو لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے آپس میں اختلافات ہیں اور وہ دونوں ہی اکٹھے

بیٹھ کر ان خبروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو میرے خیال میں میڈیا کو پہلے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔معاونِ خصوصی نے کہاکہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد بیرونِ ملک کام کرنے والے جن پاکستانیوں کو چھٹیوں پر بھیج دیا گیا تھا، صورتحال میں بہتری آنے کے بعد ان کی نوکریوں پر واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پر خلیجی ممالک کی جانب سے کوئی دباؤ نہیں تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس بلائے اور کہا کہ صرف ان افراد کو واپس بلانے کا کہا گیا جن کی نوکریاں ختم ہو گئی ہیں تاہم مزدور طبقے کی واپسی ہماری پہلی ترجیح ہے جبکہ دیگر کئی شہری خود اپنی مرضی سے یہ لاک ڈاؤن کا وقت پاکستان میں گزارنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…