جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

شوگر ملز مالکان کیلئے جاسوسی کرنے والے ایف آئی اے کے افسر کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے نااہل قرار دیا، کیسے ملازمت جاری رکھی؟ وزیراعظم نے سجاد مصطفی باجوہ کو باقی افسران کیلئے عبرت کا نشان بنانے کا عندیہ دیدیا

datetime 23  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن ) شوگر کمیشن میں شوگر مل مالکان کیلئے جاسوسی کرنے والے ایف آئی اے کے معطل ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفی باجوہ کے بارے میں معلوم ہواہے کہ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1989ء میں اسے سیاسی بنیادوں پر ایڈہاک ازم کے تحت اسسٹنٹ ڈائریکٹربھرتی کیا تھا ۔ قومی مفادات سے غداری کرنیوالے معطل ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفی کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اس نوکری کیلئے نااہل قرار دیا لیکن سفارش پر ملزم ایف آئی اے میں موجود رہا ۔

بعد ازاں عدالت عظمی نے جن 23 ایف آئی اے افسران کی تقرری اور انضمام کو خلاف قانون قرار دیا ان میں سجاد مصطفی باجوہ بھی شامل تھا لیکن اپنے افسران کی پشت پناہی کے باعث یہ تمام افسران ایف آئی اے میں موجود رہے اور ترقیاں بھی حاصل کرتے رہے سجاد مصطفی باجوہ ایف آئی اے سر کل کے افسران میں ایک ایسے جادوگر آفیسر کی شہرت رکھتا ہے جو کسی بھی افسر کو اپنی خوشامد کے ذریعے شیشے میں اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ وفاقی حکومت نے معطل ایڈیشنل ڈائریکٹر کیخلاف سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کیلئے بھی رائے مانگ لی ۔ وزیراعظم نے قومی مفادات سے غداری کرنیوالے سجاد مصطفی باجوہ کو باقی افسران کیلئے عبرت کا نشان بنانے کا عندیہ دیدیا کرپشن کیخلاف نبرد آزما وزیراعظم عمران خان کیلئے چینی اسکینڈل کے مرکزی کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے سے بڑا چیلنج یہ بھی بن چکا ہے کہ سرکاری دستاویزات کو لیک کرکے نوکری میں ترقی اور مالی مفادات حاصل کرنے والے سرکاری غداروں کیخلاف کیسے نمٹا جائے اور مافیاز کی سرکاری دستاویزات تک رسائی کو کیسے ناممکن بنایا جائے ۔ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی طرف سے وزیراعظم کو بھجوائی گئی سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفی باجوہ شوگر ملز مالکان کیلئے مخبری کرنے والے آفیسر تھے اور ان کیخلاف ثبوت ملنے کے بعد انہیں معطل کرکے محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیاگیا ہے ۔ تاہم وزیراعظم سیکرٹریٹ اس حوالے سے ملزم کیخلاف محکمانہ کارروائی کو نہ کافی سمجھتا ہے

اور قومی دستاویزات لیک کرنے کے جرم میں سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی پر بھی مشاورت کی جارہی ہے جبکہ ایف آئی اے کے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم کیخلاف فوجداری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے ۔ مصدقہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شوگر مافیا کیلئے خدمات سرانجام دینے والے سجاد مصطفی باجوہ کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1989 میں ایڈہاک اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی کیا تھا اور اس کی مدت ملازمت کا ابتدائی دورانیہ چھ ماہ مقرر کیا گیا تھا لیکن بعدازاں سیاسی بنیادوں پر اس میں اضافہ کردیاگیا لیکن فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اپنے ٹیسٹ میں سجاد مصطفی باجوہ کو ملازمت کیلئے نااہل قرار دیدیا

مگر سیاسی اثرورسوخ کے بل بوتے پر ملزم نے اپنی نااہلی کو سرد خانے کی نذر کروا کر ملازمت جاری رکھی بعدازاں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو عدالت عظمیٰ نے سجاد مصطفی باجوہ سمیت 23 افسران کی تقرری اور انضمام کو کالعدم قرار دیا لیکن ایک بار پھر ملزمان کی پشت پناہی افسران نے کی اور یہ لوگ ایف آئی اے میں ترقی کی منازل طے کرتے رہے ۔ملزم سجاد مصطفی باجوہ نے ہر دور میں ڈی جی ایف آئی اے کو اپنی خوشامد کے جال میں پھنسایا اور ساتھ ہی سیاسی سفارش پر ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے سائبر کرائم ونگ میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر تقرری حاصل کرلی سجاد مصطفی باجوہ نے ڈی جی اور اپنے اعلیٰ افسران کے سامنے خود کو محکمے کا ایماندار ترین آفیسر نہ صرف ظاہر کیا

بلکہ اس جھوٹ پر ان کا یقین اس قدر پختہ کردیا کہ اسے چینی سکینڈل کی ایک انکوائری کمیٹی کا سربراہ بھی بنا دیاگیا اور خود کو ایماندار ظاہر کرنے والے سجاد مصطفی باجوہ نے قومی مفادات کے سارے راز چینی مافیا کو دیکر اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور ساتھ ہی مبینہ طور پر مالی فوائد بھی حاصل کئے ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ملزم کے اثاثوں بارے بھی جانچ پڑتال شروع کردی گئی ہے اورملزم کی نوکری سے متعلق مکمل فائل بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوادی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی مفادات پر سودے بازی کرنے والے اس جاسوس آفیسر کو دیگر افسران کیلئے عبرت کا نشان بنانے کا عندیہ دیا ہے جبکہ اس کو بچانے کیلئے سیاسی مافیا بھی میدان میں کود چکا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…