اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی میں اس وقت دو ،دس ، چودہ ہزار نہیں بلکہ کتنی بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے مریض موجود ہیں ؟ کمشنر کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’ اوئے مختاریا ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔حکومت کو چاہیے یہ نیشن بلڈنگ کا کوئی محکمہ بنائے اور یہ محکمہ قوم کی تربیت کرے‘ ہم نے اگر قوم کو قطار میں کھڑا ہونے‘ ہاتھ دھونے اور کپڑے جوتے پہننے کی تمیز ہی سکھا دی تو ہم ترقی کی سڑک پر آ جائیں گے لیکن بدقسمتی سے یہ معمولی سا کام بھی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں‘

ہمارے پاس اس کے لیے بھی انرجی اور وقت نہیں۔پاکستان میں کرونا واقعی بہت زیادہ ہے‘ راولپنڈی کے کمشنر نے پچھلے ہفتے بتایا تھا صرف راولپنڈی ڈویژن میں 15 ہزار مریض ہیں‘ آپ باقی ملک کا اندازہ خود کر لیجیے‘یہ بھی اب ثابت ہو رہا ہے حکومت نے جان بوجھ کر ٹیسٹنگ کٹس لیٹ منگوائی تھیں‘ اس کی وجہ خوف تھا‘ حکومت کا خیال تھا ٹیسٹنگ کٹس آ گئیں تو لوگ ٹیسٹ کرائیں گے‘ مریضوں کی تعداد ہزاروں میں چلی جائے گی اور یوں ملک میں افراتفری ہو جائے گی‘ لیبارٹریاں بھی نتائج آہستہ آہستہ دے رہی ہیں۔اس کی وجہ بھی ملک کو پینک سے بچانا ہے اور دوسرا ہمارے پاس وینٹی لیٹرز نہیں ہیں‘ اگر ملک میں پانچ ہزار مریض نکل آئے تو ہمارا سارا سسٹم بیٹھ جائے گا‘ حکومت اس وجہ سے ”گوسلو“ پالیسی پر کام کر رہی ہے لہٰذا میری عوام سے درخواست ہے آپ اپنی حفاظت خود کریں‘ آپ کے دروازے سے باہر کرونا ہے‘یہ شکار تلاش کر رہا ہے‘ آپ اس سے بچ کر رہیں‘ ندیم افضل چن نے مختار کو ٹھیک بتایا تھا‘ آپ بھی روز صبح اٹھ کر خود کو مختار سمجھیں اور خود کو کہیں اوئے مختاریا۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…