پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس ، ایک خاص ذہن کے تحت تبلیغی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، اگر کسی مریض پر شک ہو تو کیا اسے ہتھکڑی لگائی جائے گی یا اس کو ہسپتال منتقل کیا جا ئے گا؟مولانا فضل الرحمان کے چبھتے ہوئے سوالات

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی ) جمعیت علما ئے اسلام (ف)کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے تبلیغی جماعت کے خلاف پراپیگنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کورونا وائرس کے پھیلائو و پرایک خاص ذہن کے تحت تبلیغی جماعت کو ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے اور تبلیغی جماعت کے اراکین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے ،

قوم جاننا چاہتی ہے اس معاملے کو کس سے برابر کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ،ہم نام نہاد حکومت پر واضح کر دینا چاہتے کہ تبلیغی جماعت کو لاوارث نہ سمجھیں ۔پارٹی رہنماوں حافظ حسین احمد،مولانا محمد امجد خان ،مولانا راشد خالد محمود سومرو،حاجی شمس الرحمن شمسی،محمد اسلم غوری،مولاناعتیق الرحمن ،مولانا صلا ح الدین ایوبی اورعبدالرزاق عابد لاکھو سے گفتگوکر تے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تبلیغی جماعت کا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے ،جس وقت ملک کو اتحاد واتفاق کی اشد ضرورت ہے اس وقت میں ملک میں انتشار کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت ایک پر امن اور منظم جماعت ہے ،اس پر کسی قسم کا ظلم وجبر برداشت نہیں کیا جا ئے گا،یہ جماعت امن کی داعی ہے اور پر امن انداز میں بے لوث اللہ اور اس کے رسول کا پیغام پوری دنیا میں لوگوں تک پہنچا رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ تبلیغی جماعت کے خلاف منفی پراپیگنڈا کرنے والے خدا کا خوف کریں ،کیا پوری دنیا میں کورونا وائرس تبلیغی والوں کی وجہ سے پھیلا ہے ،اگر کسی مریض پر شک ہو تو کیا اسے ہتھکڑی لگائی جائے گی یا اس کو ہسپتال منتقل کیا جا ئے گا؟،مریض کو ئی بھی ہو اس کا فوری علاج کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…