بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

آنے والے ہفتوں میں کورونا وائرس سے شدید خطرہ لاحق ، ملک بھرمیں کرفیو لگانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

datetime 26  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے فوری طور پر کرفیو لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس قومی سلامتی کا مسئلہ ہے،کورونا وائرس پر سیاست اور الزام تراشی کوئی کھیل نہیں ہونا چاہئے۔ ایک بیان میں سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ  ہم سب کو آنے والے ہفتوں میں کورونا وائرس سے شدید خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں وائرس سے متاثرہ افراد کو صحت مند افراد سے منقطع کرنے کی ضرورت ہے، فقط لاک ڈاؤن حل نہیں کیونکہ اس سے رابطے منقطع نہیں ہو رہے ہیں۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ مکمل و باقاعدہ کرفیو لگانے کے سوا کورونا وائرس ختم نہیں ہوگا، آج نہیں تو کل حکومت کو کرفیو لگانا پڑیگا مزید دیر نقصان دہ ہوگا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ حکومت کو بروقت اقدامات اٹھانے کیلئے 27 فروری کو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا تھا، 27 فروری کو ہی حکومت پر کارونا وائرس کیخلاف جامع قومی پلان تیار کرنے کا زور دیا تھا۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ ائیرپورٹ و دیگر داخلہ پوائنٹس پر اسکرئنگ و آئسولیشن مراکز قائم کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں داخل ہوتے ہی ہر مسافر کا ٹیسٹ و آئسولیشن میں رکھنے کی تجویز دی تھی، کورونا وائرس کو قومی سلامتی مسئلہ قرار دیکر میڈیکل ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی تھی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کا مشترکہ اجلاس بلاکر مشترکہ حکمت عملی کا مشورہ دیا تھا، 30 نکات پر مشتمل پلان تیار کرکے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بھیجا تھا، حالات آج مختلف او بہتر ہوتے اگر حکومت کورونا کیخلاف بروقت اقدامات اٹھاتی۔

انہوں نے کہاکہ 6 مارچ کو کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی ادارے بند کرنے کی تجویز دی تھی، حکومت سے سول ہسپتالوں کو آرمی میڈیکل کور کے حوالے کرنے کا کہا تھا، آرمی میڈیکل کور کو سول ہسپتالوں کی مدد کی تجویز پر پی پی کے سینئر ساتھی نے مخالفت کی۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ میرا جواب تھا کہ نہ میں نے مارشل لاء کا کہا ہے و نہ بھارتی فوج سے مدد مانگی ہے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ میں نے پاک آرمی میڈیکل کور کا سول ہسپتالوں سے مکمل تعاون کرنے کی تجویز پیش کی تھی، میں نے آرمی چیف کا سول ہسپتالوں سے مکمل تعاون کرنے کے اعلان پر شکریہ ادا کیا۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ ان مشکل حالات میں اتفاق و اتحاد سے ہمیں مخفی دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو کورونا وائرس کیخلاف اکٹھا جنگ لڑنے کی پیشکش کی، افسوس کہ حکومت کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کے پیشکش کا حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…