کرونا وائرس کے خلاف اسلام آباد میں ہر جانب اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں گونج اٹھیں، لوگوں نے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینا شروع کر دیں

  بدھ‬‮ 25 مارچ‬‮ 2020  |  22:20

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد میں اذان کی آواز گونج اٹھی، علمائے کرام کی خصوصی اپیل پر رات دس بجے کے بعد مسجدوں میں اذانیں دی گئیں، نہ صرف مسجدوں میں اذانیں دی گئیں بلکہ لوگوں نے اپنے اپنے گھروں پر چڑھ کر بھی اذانیں دیں، ہر طرف اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی رہیں۔ دوسری جانب صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال نے کہا ہے کہمحکمہ زراعت، پنجاب سیڈکارپوریشن، پنجاب ایگریکلچر ریگولیٹری اتھارٹی سمیت دیگر ذیلی اداروں کے ملازمین اور صوبہ بھر کے کسان اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر اذانیں دیں،یہ خدا کی ناراضی دور


کرنے اور معافی کابہت بڑا ذریعہ ہے تاکہ ہمیں کورونا جیسی وباء سے نجات مل سکے، عوام حکومت کی جانب سے دی جانے والی حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہوں تاکہ اس وباء کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔اپنے بیان میں وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال نے کہا کہ قوم کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم نے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگنی ہے اور خدا کی ذات بڑی رحیم و کریم ہے۔ نعمان لنگڑیال نے کہا کہ کسان فکر مند نہ ہوں حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مکمل سرپرستی اور معاونت کرے گی، حکومت کسانوں سے گندم کی فصل کا دانہ دانہ خریدے گی او رانہیں طے شدہ معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے زراعت کے شعبے کے لئے بھی خصوصی پیکج کا اعلان کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کسان دوست ہے۔ نعمان احمد لنگڑیال نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ وہ کوروناوائر س کے پھیلاؤ کو روکنے میں حکومت کی مدد کریں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔واضح رہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے اسپین کے قدیم شہرغرناطہ کی گلیوں میں 500 سال بعد اللہ اکبر کی صدائیں گونج اٹھیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق البیازین مسجد میں 500 سال کے بعد اذان دی گئی۔ اس سے پہلے اسپین میں اذان دینے پر پابندی عائد تھی۔ کچھ مسلمانوں نے گھروں کی بالکونیوں میں کھڑے ہوکر اذان دی۔اسپین ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ ملک میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 42 ہزار سے زائد متاثر ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎