پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کورونا والی میت کا دیدار نہیں ہوگا جنازہ بھی مختصر ہوگا، محکمہ ریلیف نے تدفین کا طریقہ وضع کر لیا

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا کے محکمہ ریلیف نے کورونا سے جاں بحق افراد تدفین سے متعلق طریقہ وضع کر لیا ہے۔ کورونا سے جاں بحق افراد کی میتوں کو خصوصی گاڑیوں میں ہسپتال سے منتقل کیا جائے گا۔ میتوں کی منتقلی، غسل دینے اور ڈھانپنے کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

میت کو ہسپتال ہی میں غسل دیا جائے گا، میت کو لیک پروف پلاسٹک شیٹس میں لپیٹ کر تابوت میں ڈالا جائے گا۔ میت کو غسل دینے کے بعد استعمال کیا جانے والا پانی نالہ میں بہانے کے بجائے ضائع کیا جائے گا۔ جاں بحق افراد کے لواحقین پلاسٹک شیٹس چڑھانے کے بعد ہسپتال میں ہی آخری دیدار کرسکیں گے۔ میت کا آخری دیدار کرنے والوں کیلئے فول پروف حفاظتی کٹس پہننا لازمی ہوگا۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق میت کو غسل دینے کے بعد جگہ کو ہائیو کلورائیٹ نامی کیمیکل سے دھونا لازمی ہو گا۔ میت کے کفن پر بھی ہائپو کلورائیٹ ڈالا جائے گا متوفی کے استعمال کی تمام چیزیں تلف کی جائیں گی۔ میت کو گھر منتقل کرنے والی گاڑی کو واپسی پر ہائپوکلورائیٹ سے دھویا جائے گا۔ میت لے جانے والی گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ کوئی نہیں بیٹھے گا۔ میت کو گھر منتقل کرنے کے بعد کسی کو آخری دیدار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میت کو جلد از جلد دفنایا جائے گا۔ جنازہ محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ کورونا سے انتقال کرنے والے کی میت کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جائے گا۔ میت کو ہسپتال سے گھر منتقل کرنے والا تدفین تک وہاں موجود رہے گا۔ ان قوانین اور ضابطہ اخلاق کی پابندی سب پر لازم ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…