پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

’’چھوٹے میاں صاحب! ادھر ادھر کی چھوڑئیے یہ بتائے واپس کب آرہے ہیں‘‘  آپ کے منتظر ہیں،میاں صاحب! مولانا کو آپ کی یاد شدت سے ستا رہی ہے آپ خود تشریف لائیے وگرنہ’’شاہی سواری‘‘ تیار ہے؟  دوٹوک پیغام جاری

datetime 6  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ چھوٹے میاں صاحب! ادھر ادھر کی چھوڑئیے یہ بتائے واپس کب آرہے ہیں، بھاشن فرمانے کا شوق دل میں انگڑائیاں لے رہا ہے تو قومی اسمبلی میں تشریف لائیے، آپ کے منتظر ہیں،میاں صاحب! مولانا کو آپ کی یاد شدت سے ستا رہی ہے اور تمام اپوزیشن ایڑھیاں اٹھائے آپ کی راہ تک رہی ہے۔شہباز شریف کے بیان پر

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جواب میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ چھوٹے میاں صاحب! ادھر ادھر کی چھوڑئیے یہ بتائے واپس کب آرہے ہیں، درازوں میں بند رپوٹوں کی فکر بعد میں کیجئے پہلے زبان زد عام کہانیوں کا جواب تو دیجئے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے میاں صاحب! ہم نے جیسے آپ کے دفتر سے چوری میں ملوث کارندے ڈھونڈ نکالے ایسے آٹا چینی کی قلت پیدا کرنے والوں تک بھی پہنچ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ قوم کو اچھے سے یاد ہے کہ کیسے آپ نے کمیشن ٹھکانے لگانے کیلئے نثار احمد گل کو اپنے دفتر میں ڈائریکٹر پولیٹیکل افیئرز لگایا۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے میاں صاحب! آپ کے دفتر میں پالیسی والے ڈائریکٹر صاحب علی احمد صاحب کا نام بھی عوام کہاں بھولے ہیں۔مراد سعیدنے کہ کہ میاں صاحب! گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی، یونی ٹاس لمیٹڈ، نثار ٹریڈنگ کمپنی کے ذریعے آپ نے جمہوریت کو جو چار چاند لگائے پلیز واپس آکر قوم کو اسکے بارے میں بتائیں۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب قوم آپ نے وقار ٹریڈنگ کمپنی، مقصود اینڈ کمپنی اور مشتاق اینڈ کمپنی کے ذریعے جو عوام میں مفت چینی، آٹا، دالیں اور گھی وغیرہ مفت تقسیم کئے قوم کو اسکا بھی بتائیں۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے میاں صاحب! فرزند زرداری بھی آپ کی اور بڑے میاں کی یاد میں اداس اور دلگرفتہ ہیں۔انہوں نے کہ کہ میاں صاحب! مولانا کو آپ کی یاد شدت سے ستا رہی ہے اور تمام اپوزیشن ایڑھیاں اٹھائے آپ کی راہ تک رہی ہے۔انہوں نے کہ کہ بھاشن فرمانے کا شوق دل میں انگڑائیاں لے رہا ہے تو قومی اسمبلی میں تشریف لائیے، آپ کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب! چھپنے کیلئے لندن کی گلیاں بھی آج اتنی ہی غیر محفوظ ہوچکی ہیں جتنی لاہور کی، خود تشریف لائیے وگرنہ “شاہی سواری” کے ذریعے واپسی کا آپشن بھی دستیاب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…