اسلام آباد(آن لائن)اٹارنی جنرل آف پاکستان نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبہ بارے اپنی قانونی رائے دے دی ہے اور روسی کمپنیوں بارے وزارت پٹرولیم کے مؤقف کو یکسر مسترد کردیا ہے۔اٹارنی جنرل آف پاکستان کی رائے سامنے آنے کے بعد وزارت پٹرولیم کی بدنینی کو قوم کے سامنے مکمل بے نقاب کردیا ہے۔وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ حکام نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبہ کے ک
نٹریکٹ روس کی کمپنیوں کو دینے اور کمپنیوں کے چند ماہ پہلے اٹارنی جنرل کو خط لکھا تھا جو ایک ہفتے کے بعد واپس لے لیا گیا جبکہ ایک ماہ پہلے سیکرٹری پٹرولیم نے یہ خط دوبارہ اٹارنی جنرل کو لکھا ہے جس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے امریکہ اور برطانوی کمپنیوں کی مشاورت اور مدد سے روس کی کمپنی(ای ٹی کے) اور( ٹی ایم کے) بارے قانونی رائے حاصل کی ہے۔آن لائن کو انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس نے دی گئی قانونی رائے میں وزارت پٹرولیم کے مؤقف کو یکسر مسترد کردیا ہے،جس کے بعد وزارت پٹرولیم کے ذاتی مفاد رکھنے والے افسران میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔وزارت پٹرولیم کا کرپٹ بدعنوان عناصر کا ایم ڈی آئی ایس جی ایس صولت مبین سرغنہ سے اس گروپ میں وزارت کے دیگر اعلیٰ افسران شامل ہیں جو ملک میں گیس منصوبوں کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبہ کے بارے روس کے سٹرکچر میں روس کی کمپنی(ٹی ایم کے) شامل تھی جس کے بارے میں وزارت پٹرولیم کے حکام نے اس کمپنی کو اس منصوبہ کے لئے نااہل قرار دے دیا تھا۔وزارت پٹرولیم کے حکام روس کی دیگر کی کمپنی(ای ٹی کے) نامی کمپنی کو یہ کنٹریکٹ دینا چاہتے ہیں اور اس کمپنی کو اس منصوبہ کا کنٹریکٹ دینے کے لئے وزیراعظم کے ایک بااختیار مشیر بھی اس گروہ میں شامل ہوگئے تھے
اور وزیراعظم کو اس کمپنی کو کنٹریکٹ دینے بارے قائل کر رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ وزارت پٹرولیم نے روس کی کمپنی ٹی ایم کے بارے اعتراضات بے بنیاد ہیں اور یہ کمپنی اس منصوبہ کو مکمل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے جبکہ دوسری روسی کی کمپنی ای ٹی کے بارے منفی رائے دی ہے اور امریکی اور برطانوی کمپنی کی مشاورت کے بعد قرار دیا ہے
کہ اس کمپنی کی نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کی نہ اہلیت ہے اور نہ صلاحیت ہے کیونکہ اس کمپنی نے آج تک اتنا بڑا منصوبہ مکمل کرنے کا تجربہ بھی نہیں رکھتی ۔اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ٹی ایم کے کمپنی پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے بلکہ وزارت پٹرولیم کے پسندیدہ کمپنی ای ٹی کے پر قدغن ہیں جبکہ ٹی ایم کے روس کی کمپنی واچ لسٹ بھی شامل ہیں ہے۔اٹارنی جنرل کی رپورٹ کے
بعد وزارت پٹرولیم کے حکام کو شدید سبکی دیکھنے کو ملی ہے اور اب یہ کرپٹ گروہ وزیراعظم عمران خان کے سامنے جانے سے بھی کترا رہا ہے۔اس حوالے سے جب مشیر پٹرولیم ندیم بابر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مختصر تحریری پیغام میں مؤقف احتیار کیا ہے کہ یہ تمام معلومات غلط ہیں اور مزید مؤقف کیلئے وزارت پٹرولیم کے ترجمان سے رابطہ کیا جائے۔اس حوالے سے ترجمان سے بھی رابطہ کیا گیا تو موصوف نے چپ سادھ لی جب اس حوالے سے سیکرٹری پٹرولیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی جواب دینے سے گریزکیا گیا ۔



















































