اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان میں قیدیوں کے معاملہ گزشتہ دس دن پہلے ہی متنازعہ شکل اختیار کر چکا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ تمام قیدیوں کو ایک ساتھ رہا کیا جائے تاہم جسے امریکہ نے مشکل قرار دیاتھا ۔ امریکہ نے طالبان کی رہائی کیلئے زبانی یقین دہانی کرائی ۔ جبکہ افغان صدر اشرف غنی طالبان کی رہائی کو بطور بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ امریکہ اس وقت
نہیں چاہتا کہ افغانستان میں پھر الیکشن ہوں جبکہ امریکہ نے افغانستان میں الیکشن کے نتائج کا اعلان کرنے کی اجازت دی ۔ معرو ف تجزیہ کا مزید کہنا تھاکہ اگر اشرف غنی اگر بطور صدر حلف اٹھا لیتے ہیں تو طالبان کو ملنے والی رعایت میں بڑی رکاوٹ کھڑی ہو سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ 19سال کی جنگ ختم ہو چکی ہے ، افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں ۔ امن معاہدے میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کاوشیں شامل ہیں جنہیں افغان طالبان نے سراہا ہے ۔
اشرف غنی دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے۔ ایسے میں انیس افغان ڈائیلاگ کیسے شروع ہو گا؟
افغان طالبان کی رہائی کے معاملے کو صدر اشرف غنی بطور بارگیننگ چپ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ سلیم صافی
لیکن کیسے؟
pic.twitter.com/eb12fhgLOf— Adil Shahzeb (@adilshahzeb) March 2, 2020



















































