منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

امریکہ اور طالبان میں جنگ بندی کا اعلان، اسفند یار ولی بھی بول پڑے

datetime 23  فروری‬‮  2020 |

پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے 18سال بعد امریکہ اور طالبان میں جنگ بندی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلے میں بنیادی طور پر فریق دو نہیں بلکہ حکومت سمیت تین فریق تھے،

یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ تینوں فریق جنگ بندی کے اعلان پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں جو امن کے حوالے سے خوشخبری ہے۔ولی باغ چارسدہ سے جاری اپنے بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کا روز اول سے مطالبہ تھا کہ دنیا کو افغان مسئلے کے حل کیلئے راہ تلاش کرنی ہوگی اور حکومت افغانستان کو اس عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔آج پہلی بار محسوس ہورہا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہونے کی طرف جارہا ہے،افغان امن کے ساتھ پورے خطے اور بالخصوص پاکستان کا امن جڑا ہوا ہے،اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے تو یقینی طور پر اُس کے اچھے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی یہی مطالبہ کرتی چلی آرہی تھی کہ افغان مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ آج یہ مذاکرات ہی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ امریکا اور طالبان عارضی جنگ بندی کا اعلان کررہے ہیں۔ اگر مذاکرات کا سلسلہ یونہی چلتا رہا تو عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے تمام امن پسندوں کیلئے خوشی کا دن ہے کہ عارضی جنگ بندی ہی سہی لیکن افغان عوام آج پرامن افغانستان کا پہلا دن منارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…