منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

زہریلی گیس کے متاثرین کی آواز سن لی گئی ، حکومت نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 18  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے زہریلی گیس سے متاثر شہریوں کو شادی ہالوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے وجہ معلوم کریں پھرریلوے کالونی سے ضرورت کے تحت خالی کرائیں۔کراچی کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8 ہوگئی جبکہ 200 سے زائد مزید متاثرہ شہری اسپتال پہنچ گئے۔ اسپتال پہنچنے والے

مریضوں میںسانس لینے میں مشکل، دم گھٹنے اورالٹیاں لگنے کی شکایات برقرار ہیں ۔گزشتہ شب کیماڑی میں واقع نجی اسپتال میں متعدد مریضوں کو لایا گیا، کے پی ٹی اسپتال میں 70 مریض لائے گئے جن میں 40 پرائیویٹ جبکہ 30کے پی ٹی کے ملازم ہیں جن کی حالت بہتر ہوئی انہیں ڈسچارج کردیا گیا۔جن مریضوں کی حالت نہ سنبھلی انہیں جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 10 مریض کے پی ٹی کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ جناح اسپتال کی انچارج شعبہ حادثات سیمی جمالی کے مطابق 25 مریض زیرعلاج ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کابینہ کا اجلاس طلب کیا جس میں ہدایت کی کہ مریضوں کے تمام ضروری ٹیسٹ کیے جائیں۔ اگر مریضوں کو کہیں منتقل کرنا ہو تو امن ایمبولنس کی سروس دیں، پہلے گیس پھیلنے کی وجہ معلوم کی جائے پھر ریلوے کالونی سے اگر ضروری ہو تو انخلا کریں۔ ہوا کا معیار چیک کروا کر زہریلی گیس کی وجہ جاننا ضروری ہے ۔انہوں نے کیماڑی کے نجی اسپتال اور جناح اسپتال کا دورہ کیا، مریضوں کی عیادت کی اور اسپتال انتظامیہ کو مریضوں کا بہترین علاج کرنے کی ہدایت کی۔دوسری جانب کمشنر کراچی نے اجلاس میں بریفنگ دی کہ پورٹ پر بحری جہاز سے سویابین یا کوئی اور چیز نکالنے پرگیس کی بدبو پھیلتی ہے، کنٹینر کا دروازہ بند کرنے سے بدبو کم ہوجاتی ہے۔پاک بحریہ کے ماہرین نے بھی متاثرہ علاقے سے نمونے اکٹھے کرلیے، جبکہ گیس کی نوعیت اور اخراج کا مقام جاننے کیلیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ریلوے ورکرز یونین کے رہنما محمد نسیم رائو اور منظور رضی نے مطالبہ کیا کہ ریلوے انتظامیہ کیماڑی ریلوے کالونی کے رہائشی ملازمین کیلیے متبادل رہائش کا فوری انتظام کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…