بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ میں کرائے پر خواتین لانے کی رپورٹنگ کرنیوالے صحافی عزیز میمن کا قتل، فوادچوہدری سے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا

  پیر‬‮ 17 فروری‬‮ 2020  |  14:28

نوشہروفیروز،اسلام آباد(آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرصحافی عزیز میمن کوگلہ گھونٹ کر قتل کردیا،ایس ایچ اومحراب پور عظیم راجپر کے مطابق صحافی عزیز میمن کی نعش گودو شاخ میں ایک اقلیتی برادری کی عبادت کے قریب سے ملی ہے،چرواہوں نے گودو شاخ میں نعش دیکھ کراسے باہر نکالا،مقتول صحافی کے گلے میں کیبل کی تارپھنسی ہوئی تھی خدشہ ہے کہ انہیں مذکورہ تار سے گلہ گھونٹ کرقتل کرنے کے بعد گودو شاخ میں پھینکا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وہ کسی دعوت پرصوفائی سہتوگئے تھے۔ میڈیکل آفیسرکے مطابق ابتدائی طور کچھ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ عزیز میمن کی موت گلہ


گھٹنے سے ہوئی ہے یا حرکت قلب بندیا دیگر وجوہات کی وجہ سے ہوئی ہے۔گلے میں پائی گئی تار کے گلے پر نشانات نہیں ملے ہیں۔ صحافی عزیز میمن کے قتل کی اطلاع ملتے ہی محراب پور پریس کلب کے صدر محمد سرفراز نواز،جنرل سکریٹری یونس رفیق ملک،نیشنل پریس کلب محراب پورکے صدر رانا ندیم انجم،جنرل سکریٹری دودل خان نوح پوٹو،منوراحمد ملک،مجاہد علی سامیٹو، قاسم شیخ،ہسپتال پہنچ گئے، محراب پور پریس کلب نے سینئر صحافی عزیزمیمن کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔مرحوم کی عمر 56سال تھی، انہوں نے پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹے،دوبیٹیاں چھوڑی ہیں۔دریں اثنا وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فوادچوہدری نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے صحافی عزیز میمن کے قتل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں چیف جسٹس پاکستان سے صحافی عزیزمیمن کے قتل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ایجنسی کیس کی تحقیقات کرے۔فواد چوہدری نے کہا کہ عزیزمیمن نے قتل سے پہلے سندھ کی حکمران جماعت پرالزامات لگائے،عزیزمیمن نے ویڈیو میں اپنی مشکلات بیان کیں۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عزیزمیمن نے پیپلزپارٹی کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیوں سے بھی آگاہ کیا، عزیز میمن دھمکیوں سے آگاہ کرنے اسلام آباد بھی آئے۔بلاول بھٹوکے ٹرین مارچ کے موقع پر عزیز میمن نے خبر دی تھی کہ بلاول کے ٹرین مارچ میں خواتین کو پیسے دیکر لایا جارہا ہے جس پر پیپلزپارٹی کے رہنما سیخ پا تھےاور عزیز میمن کو پیپلزپارٹی رہنماؤں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎