دنیا جہاں کی طوائفیں مذہبی ہوتی ہیں‘ آپ کوپوری عیسائی دنیا میں کسی طوائف کا نام میری مریم‘ رابیکا یا صفورا نہیں ملے گا‘آپ کو مسلمان طوائفوں کے نام بھی شمع یا پروانہ ٹائپ ملیں گے،دنیا جہاں کی طوائفیں ادافروشی سے پہلے اپنے نام کیوںتبدیل کرتی ہیں؟ یہ ہر دوسرے تیسرے دن کیا کام لازمی کرتیں ہیں ؟تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگئے

  اتوار‬‮ 16 فروری‬‮ 2020  |  10:06

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگا ر جاوید چودھری اپنے کالم ’’توبہ کا وقت مخصوص ہے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔اللہ تعالیٰ بہت کم لوگوں کو یہ ساری نعمتیں دیتا ہے اور سردار صاحب ان کم لوگوں میں شمار ہوتے ہیں‘ ان کا پورا نام کامران حسن آصف ہے‘دادا سردار عبدالرزاق لنکنزان میں پڑھتے تھے‘ قائداعظم نے ملتان بھیج دیا اور وہ پوری زندگی ملتان سے باہر نہیں نکلے‘ والد انگریزی کے مشہور پروفیسر ایم آر آصف تھے‘ قیام پاکستان سے پہلے امریکا گئے‘ جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے انگریزی اور ایجوکیشن میں ایم اے کیا‘ یہ پاکستان کے پہلے ایم اے ایجوکیشن


تھے۔وہ پوری زندگی انگریزی پڑھاتے اور انگریزی لٹریچر کی کتابیں لکھتے رہے‘ سردار صاحب کے ایک بھائی ندیم حسن آصف ملک کے مشہور بیوروکریٹ ہیں جب کہ سردار صاحب کے بقول یہ خاندان کے انتہائی کم علم فرد ہیں‘ یہ اگر کم علم ہیں تو آپ پھر پڑھے لکھوں کا لیول دیکھ لیجیے‘ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی‘ جوانی میں گھر سے نکل گئے اور پوری دنیای دیکھ ڈالی‘ مجھے پاکستان میں آج تک کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس نے لاطینی امریکا کی سیاحت کی ہو‘ یہ لاطینی امریکا کے آدھے ملک بھی دیکھ چکے ہیں۔مطالعے کی دائمی عادت کا شکار ہیں‘ روز دو تین گھنٹے پڑھتے ہیں‘ الیکٹرومیڈیکل انسٹرومنٹس کا کام کرتے ہیں‘ پورے ملک میں یورالوجی‘ گائنی اور لیور کے آلات سپلائی کرتے ہیں‘ اینڈوسکوپی اور لیور سکین میں مناپلی ہے‘ طبیعت میں تحمل اور خیالات میں روانی ہے‘ گفتگو سالڈ کرتے ہیں اور شوقیا ٹیلی فلمیں بناتے ہیں اور میں ایک دوملاقاتوں میں ان کا فین ہوچکا ہوں۔مجھے شرم الشیخ اور لاہور میں ان کے ساتھ چند گھنٹے گزارنے کا موقع ملا‘ سردار صاحب نے ان چند گھنٹوں میں میرے چار خوف ناک مغالطے دور کر کے میرے علم میں بے تحاشا اضافہ کیا۔سردار صاحب کا خیال ہے ہم مسلمان سبحان اللہ کی تسبیح کرتے ہیں لیکن دنیا کا بہترین سبحان اللہ کام ہے‘ آپ کوئی کارنامہ سرانجام دیں‘ آپ دیوار چین بنا دیں‘ بلب ایجاد کر دیں‘ کینسر کی دوا بنا دیں‘ آپ کوئی مفید کتاب لکھ دیں‘ آپ کوئی شان دار ایپلی کیشن بنا دیں یا آپ کوئی ایسی نظم‘کوئی ایسی غزل یا کوئی ایسی دھن بنا دیں جسے سن کر‘ دیکھ کر یا محسوس کر کے دوسروں کے منہ سے سبحان اللہ نکل جائے اور یہ سبحان اللہ ہماری روزانہ کی تسبیحات سے بڑا سبحان اللہ ہو گا۔ان کا کہنا تھا سبحان اللہ جتنا ان ڈائریکٹ‘ جتنا عملی ہو گا یہ اتنا ہی پاورفل اور اتنا ہی بڑا ہو گا اور اس کا اتنا ہی ثواب ہو گا‘ سیاح دیوار چین دیکھ کر کیا کہتے ہیں ”سبحان اللہ بنانے والوں نے کیا دیوار بنائی ہے“ یہ فقرہ اصل سبحان اللہ‘ اصل تسبیح ہے‘ سردار صاحب کی بات میرے دل کو لگی‘ دوسرا ان کا کہنا تھا دنیا جہاں کی طوائفیں مذہبی ہوتی ہیں‘ آپ کوپوری عیسائی دنیا میں کسی طوائف کا نام میری‘ مریم‘ رابیکا یا صفورا نہیں ملے گا‘آپ کو مسلمان طوائفوں کے نام بھی شمع یا پروانہ ٹائپ ملیں گے۔دنیا جہاں کی طوائفیں ادافروشی سے پہلے اپنے نام تبدیل کرتی ہیں‘ یہ صدقہ خیرات بھی بہت کرتی ہیں اور تمام اسلامی تہوار بھی عام مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ خشوع وخضوع کے ساتھ مناتی ہیں‘ یہ ہر دوسرے تیسرے دن ختم بھی کراتی ہیں اور ان کے دن کا آغاز بھی مناجات سے ہوتا ہے‘ آپ نے کبھی سوچا ”کیوں؟“ میں نے جواب دیا نہیں‘ یہ بولے انسان کی نفسیات ہے یہ جتنا بڑا جرم کرتا ہے‘ یہ جتنا بڑا مجرم ہوتا ہے‘ یہ وکیل بھی اتنے ہی تگڑے اور زیادہ رکھتا ہے۔یہ طوائفوں کا گلٹ ہوتا ہے جو انہیں مذہب میں پناہ لینے پر مجبور کر دیتا ہے‘ مجھے ان کی یہ بات بھی ٹھیک لگی اور اس کے ساتھ ہی مجھے وہ تمام سیٹھ بھی یاد آ گئے جنہوں نے زندگی میں حرام کمانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا لیکن آخر میں شہر کی سب سے بڑی مسجد بھی بنا دی‘ مدرسہ بھی اور ہسپتال بھی‘ یہ ہسپتال‘ مدرسہ‘ مسجد یا پھر لنگر شاید‘ شاید ان کے وکیل ہوں اور وہ یہ سمجھتے ہوں یہ عمارتیں دوسری زندگی میں ان کی وکالت کریں گی۔


موضوعات: