بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

عوام بارہویں کھلاڑی کی باتوں میں نہیں آنے والے، اب نیا ترانہ بنائیں کہ ”مولانا جارہاہے“فردوس عاشق اعوان کا مولانا فضل الرحمن کو مشورہ

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمن کو مشورہ دیاہے کہ اب نیا ترانہ بنائیں کہ ”مولانا جارہاہے“،عوام بارہویں کھلاڑی کی باتوں میں نہیں آنے والے،عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں،سیاسی انتشار پھیلانے والا ٹولہ 2023 تک انتظار کرے،منتخب حکومت گرانے کی کوشش بغاوت کے مترادف ہے، حکومت رئیل سٹیٹ سیکٹر کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے،

پاکستانی معیشت کا پہیہ رئیل سٹیٹ سیکٹر سے جڑا ہے، نادار افراد کو گھروں کی فراہمی رئیل سٹیٹ سیکٹر کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں،رئیل سٹیٹ سے جڑی صنعتوں کے مسائل کے حل کیلئے بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ پیر کو فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کی تقریب حلف برداری میں معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عہدیداروں سے حلف لیااس موقع پر معاون خصوصی نے نومنتخب اراکین اور عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے سیاسی اداکار چورن بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مولانا صاحب کو مشورہ ہے کہ اب نیا ترانہ بنائیں کہ”مولانا جارہا ہے“۔ انہوں نے کہاکہ عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں،سیاسی انتشار پھیلانے والا ٹولہ 2023 تک انتظار کرے۔ انہوں نے کہاکہ عوام بارہویں کھلاڑی کی باتوں میں نہیں آنے والے۔ انہوں نے کہاکہ وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ منتخب حکومت کو گرانے آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت وزیراعظم کی قیادت میں رئیل سٹیٹ کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ رئیل سٹیٹ سیکٹر سے 50 ہزار سے زائد افراد منسلک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت رئیل سٹیٹ سیکٹر کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے،پاکستانی معیشت کا پہیہ رئیل سٹیٹ سیکٹر سے جڑا ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ رئیل سٹیٹ سیکٹر کے مسائل حل کرنے پر ایف بی آر کی شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ رئیل سٹیٹ سیکٹر پر گین ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کر دیا گیا ہے،

رئیل سٹیٹ سیکٹر کے نمائندگان کی وزیراعظم سے جلد ملاقات کرائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نادار افراد کو گھروں کی فراہمی رئیل سٹیٹ سیکٹر کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہاؤسنگ شعبے میں حائل رکاوٹوں کو جلد حل کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ رئیل سٹیٹ کا شعبہ بھی بدعنوانی سے بچ نہ سکا،رئیل سٹیٹ سیکٹر میں چند افراد نے خود کو اداروں سے زیادہ طاقتور کر لیا تھا۔معاون خصوصی نے کہاکہ ہاؤسنگ منصوبے سے 40 صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ رئیل سٹیٹ سے جڑی صنعتوں کے مسائل کے حل کیلئے بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ قانون کی حکمرانی کی صورت میں کسی کو جائز حق سے محروم نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ رئیل سٹیٹ اور تعمیرات سے جڑے مسائل کے حل کیلئے ٹریبونل تشکیل دیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ٹریبونلز کی تشکیل سے سستا اور جلد انصاف مہیا ہو سکے گا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ شفافیت کیلئے ڈیجیٹلائزیشن نظام کو متعارف کرایا جا رہا ہے،ہاؤسنگ کے مختلف شعبوں کو بنک سے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ نیا پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مافیا نے اشیائے ضروریہ ذخیرہ کرکے مصنوعی قلت پیدا کی،مافیا کی گھناؤنی سازش سے رئیل سٹیٹ کے پیسے سے لوگوں نے اشیائے ضروریہ ذخیرہ کیں۔ انہوں نے کہاکہ سازشی عناصر کا بیانیہ انارکی پر مبنی ہے،وہ ملک کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے،عوام سیاسی پنجہ آزمائی سے تنگ ہے،وہ فلاحی کام چاہتے ہیں۔معاون خصوصی نے کہاکہ اسلام آباد کے عوام نے مولانا فضل الرحمان کا بیانیہ مسترد کردیا تھا،حکومت کی کارکردگی کا جائزہ عوام کا حق ہے،کسی اور کا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ منتخب حکومت گرانے کی کوشش بغاوت کے مترادف ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وہ لوگ جنہیں عوام مسترد کرچکی وہ پہلے منتخب ہوں،پھر کوئی مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان اپنے اختیارات منوانے کا ہنرجانتاہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکمران عوام کیرئیل سٹیٹ کا سرمایہ ہڑپ کرگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…