بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اسحاق ڈار کے گلبرگ والے عالیشان گھرکو پناہ گاہ بنائے جانے کے بعد پہلی رات کتنے افراد نے قیام کیا؟غریب اور بے سہارا لوگوں کی موجیں لگ گئیں

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن)سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گلبرگ والے گھرکو پناہ گاہ بنائے جانے کے بعد پہلی رات 17افراد نے قیام کیا۔مقیم افراد کو رات کا کھانا اور صبح کا ناشتہ دیا گیا، پناہ گاہ روزانہ شام چھ سے صبح 8 بجے تک کھلا کرے گی جہاں 50 مرد و خواتین کی رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے ۔

ان میں 15 خواتین 35 مرد رہ سکیں گے۔ضلعی انتظامیہ نے حکومت پنجاب کی مشاورت کے بعد اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ بنا یا ہے، غریب اور بے سہارا لوگوں نے اب عالیشان بنگلے کا لطف اٹھانا شروع کردیا۔پہلے روز رہائش اور کھانا کھانے کے بعد تمام افراد اپنے اپنے روزگار پر چلے گئے اور شام چھ بجے دوبارہ غریب اوربے سہارا لوگ پناہ گاہ پہنچ گئے۔اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ بنائے جانے پر دور دور سے لوگ اسے دیکھنے بھی آرہے ہیں۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے پروفیسر عبدالمجید اپنی بیٹی کے ہمراہ عالیشان پناہ گا ہ دیکھنے آئے مگر وقت ختم ہونے کی وجہ سے دیکھنے کی اجازت نہ مل سکی۔اسسٹنٹ کمشنر ذ یشان نصراللہ رانجھا کے مطابق تمام پناہ گاہیں صرف بے سہارا افراد کے لئے رات کو کھولی جاتی ہیں اور صبح کو بند کر دیا جا تا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…