بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا 8 ہزار سکولوں اور 4 ہزار مساجد کو شمسی نظام پر منتقل کرنے کا فیصلہ،زبردست اعلان کردیا گیا

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخواحکومت رواں سال Access to clean energyپروگرام کے تحت شمسی توانائی کے متعدد منصوبے شروع کررہی ہے جن کی تکمیل سے سستی بجلی کی پیداوارکے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ جیسی لعنت سے چھٹکارہ ملے گابلکہ توانائی کی بچت سے صوبے کومالی فائدہ بھی ہوگا۔توانائی منصوبوں کے لئے ٹھیکہ داراورکنسلٹنٹ کی تقرری کے عمل کومزیدشفاف بنانے کے حوالے سے قائم متعددکمیٹیوں کوضم کرکے تجاویزکوپیڈوبورڈآف ڈائریکٹرزکی حتمی منظوری سے مشروط کردیا گیا۔

اس سلسلے میں پیڈوبورڈ آف ڈائریکٹرزکا42واں اجلاس زیرصدارت چیئرمین بورڈنثارمحمدخان منعقدہوا۔اجلاس میں سیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیرخان،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ اخترسعید ترک،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نصراللہ،چیف ایگزیکٹوپیڈوسیکرٹری بورڈانجینئرنعیم خان،صدرسرحدچیمبرآف کامرس مقصودانورپرویز،ڈاکٹرحسن ناصر،مصورشاہ،عبدالصدیق اورارباب خدادادکے علاوہ جنرل منیجرہائیڈل زاہد اخترصابری اورجنرل منیجرسولرتاج محمدنے شرکت کی۔ اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹرسولرخرم درانی نے صوبے میں جاری شمسی توانائی کے مختلف منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹوپیڈوانجینئرنعیم خان نے بورڈ کوبتایا کہ Access to Clean Energyپروگرام کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے صوبے کے 25اضلاع میں 4347ملین کی لاگت سے 8ہزارسکولوں اور187بنیادی مراکزصحت BHUsکوشمسی توانائی کے نظام پر منتقل کرنے کامنصوبہ شروع کیا جارہا ہے،اسی طرح صوبے بھر میں 4ہزارمساجد کوبھی شمسی توانائی کے نظام پربھی منتقل کیا جائے گا۔اجلاس میں بتایا گیاکہ موجودہ صوبائی حکومت نے توانائی بچت کے تحت سولرائزیشن ان سول سیکرٹریٹ اورسولرائزیشن ان چیف منسٹرسیکرٹریٹ اینڈسی ایم ہاؤس کوشمسی نظام کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے منصوبے شروع کئے جوکہ تکمیل کے آخری مراحل سے گزررہے ہیں۔

ان منصوبوں کی تکمیل سے ایک طرف سرکاری دفاترکوبلاتعطل سستی بجلی میسرآئے گی بلکہ دوسری طرف ان منصوبوں سے پیداہونے والی اضافی بجلی کونیشنل گرڈ میں شامل کرکے پیسکوکوفروخت بھی کیا جائے گی جس سے صوبے کوفائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ اجلاس میں بورڈ ممبران نے منصوبوں کے لئے کنسلٹنٹ اورٹھیکہ دارکی تقرری کے عمل کومزیدشفاف بنانے کے لئے ای بڈنگ وای ٹینڈرنگ کے نظام پرزوردیا اورکمیٹیوں کی تجاویز کو براہ راست بورڈ کی منظوری سے مشروط کرنے کی منظوری دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…