بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

آٹے، چینی اور ضروری اشیا ء کی قیمتوں کی روزانہ رپورٹ بنائیں، حکومت کا ایسا نہ کرنے والے افسران کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

بدین (این این آئی) آٹے، چینی اور ضروری اشیا متعلق رپورٹ نہ دینے والے افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے کئی افسران کی چینی اور ضروری اشیا کے نرخوں کی رپورٹ دینے میں ناکامی کے بعد ایک ہفتے میں کارروائی کرنے کافیصلہ کرلیا گیا۔

اس سلسلہ میں سروسز جنرل ڈیپارٹمنٹ چھ ڈویژنل کمشنرز کے علاوہ سندھ بھر کے ڈی سیز کو خط لکھ کر لکھاہے کہ سندھ میں آٹے چینی اور ضروری اشیا پر کنٹرول کرنے متعلق ضلع کے سب اسسٹنٹ کمشنروں کو پابند بنایا گیا تھا کہ وہ روزانہ بازاروں میں جاکرضروری اشیا کی چیکنگ کریں اور سندھ پرفارمنس منیجمنٹ کو رپورٹ کریں ایسی ہدایات کے باوجود سندھ کے کتنے ہی ضلعوں کے افسروں کی طرف سے رپورٹ نہ جمع کروانے پر چیف سیکرٹری سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے سندھ کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خط لکھ کر ہدایات جاری کی ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ نہ دینے والے افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے بھی سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ پاکستانی عوام کو ان کے گھروں تک سستے نرخ پر آٹا، گھی اور ضروری اشیاء فوراً مہیا کی جائیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…