جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

شہریوں کے لیے پیدائش سرٹیفکیٹ کا حصول عذاب بن گیا

datetime 22  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن) وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے لیے پیدائش سرٹیفکیٹ کا حصول عذاب بن گیاہے ،شہری سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے یونین کونسل،سی ڈی اے ،ایف 8 کچہری اور ڈپٹی کمشنر آفس کے چکر لگانے پر مجبور ہوگئے ہیں،شہریوں نے پیدائش سرٹیفکیٹ کا تمام پراسس ون ونڈو کے تحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اسلام آباد سمیت ملحقہ یونین کونسلوں کے مکینوں کے لیے پیدائش سرٹیفکیٹ کا

حصول بہت مشکل ہوگیا ہے شہری سی ڈی اے حکام کی جانب سے پیدائش سرٹیفکیٹ کے لئے درکار کوائف پورے کرنے کے بعد جب دفتر میں جمع کراتے ہیں تو انہیں ڈپٹی کمشنر آفس سے این او سی کے حصول کا پروانہ لانے کے احکامات سنا دیے جاتے ہیں اور اس این او سی کے حصول پر مزید 7روز لگ جاتے ہیں جبکہ بعض اوقات اعتراض لگنے کی صورت میں کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں واضح رہے کہ ایف 8کچہری میں این او سی کے لئے فارم جمع کروانے کے بعد وہاں پر متعین سرکاری ملازم روزانہ کی بنیاد پر درجنوں فارم اسسٹنٹ کمشنر شالیمار سدرہ انور کے دفتر واقع جی الیون پہنچاتا ہے اور وہاں پر بھی اسسٹنٹ کمشنر کے موجود ہونے یا نہ ہونے کا امکان ہوتا ہے جس کی وجہ سے پیدائش سرٹیفکیٹ کے حصول کا دوسرا مرحلہ مزید طویل ہو جاتا ہے اس وقت سی ڈی اے کے ریکارڈ میں 5سال جبکہ یونین کونسل کے ریکارڈ میں 60دنوں کی تاخیر کی صورت میں اندراج کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کا این او سی لازمی ہے جس کی وجہ سے عوام کو کء دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں وفاقی دارالحکومت کے شہریوں نے پیدائش سرٹیفکیٹ کے حصول کو آسان بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام ضروریات کے لیے ون ونڈو کی سہولت فراہم کرنے ک مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…