بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے حقیقی مستحقین کی تلاش شروع    تحت مالی امداد حاصل کرنے والے غیر مستحق افراد کی تفصیلات طلب کر لی گئیں

  منگل‬‮ 21 جنوری‬‮ 2020  |  22:19

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کوبتایاگیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 50 لاکھ 10 ہزار مستحقین مالی امداد حاصل کر رہے ہیں، ملک بھر میں حقیقی مستحقین کے انتخاب کے لئے سروے جاری ہے جس کے بعد نئے سرے سے اعداد و شمار وضع کئے جائیں گے، 5 اگست 2019ء کے بعد بھارت کو گلابی نمک کی برآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد حاصل کرنے والے غیر مستحق افراد کی تفصیلات طلب کرلیں۔ منگل کو وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر


اعظم سواتی نے بتایاکہ ہر مستحق فرد کو سہ ماہی بنیاد پر پانچ ہزار روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ 2010-11ء میں سروے کی بنیاد پر ان کا انتخاب کیا گیا تھا۔ زیادہ تر مستحق افراد بائیو میٹرک ویری فیکیشن سسٹم کے تحت رقوم وصول کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو منی آرڈر کے ذریعے بھی رقم دی جاتی ہے۔ غریب افراد کی رجسٹریشن کو اپ گریڈ کرنے کا عمل نومبر 2016ء سے شروع کیا گیا ہے اور یہ سروے ابھی جاری ہے جو رواں سال مکمل ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے  بتایا کہ بھارت سالانہ 12.8 ملین ٹن دنیا کو معدنی نمک برآمد کرتا ہے اور وہ دنیا میں غیر معیاری صنعتی نمک برآمد کرنے والا ملک ہے جو  زیادہ تر سوڈا ایش میں استعمال ہوتا ہے، دوسری طرف پاکستان نے دنیا میں 2018ء میں 52 ملین ڈالر مالیت کا تقریباً 3 لاکھ ٹن سے زائد معدنی نمک برآمد کیا اور بھارت کو 72 ہزار 631 ٹن نمک برآمد کیا گیا جس میں صنعتی نمک کی دونوں اقسام شامل ہیں جو سوڈا ایش اور گھریلو نمک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھارت کی برآمدی قیمت کے مقابلے میں تین گنا زیادہ قیمت پر معدنی نمک برآمد کیا لیکن 5 اگست 2019ء کے بعد اب بھارت کو نمک کی برآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اجلاس  کے دور ان چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد حاصل کرنے والے غیر مستحق افراد کی تفصیلات طلب کرلیں۔ وقفہ سوالات کے دور ان وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بتایا کہ 2020ء میں پہلے سے خدمات انجام دینے والے افسران اپنی مدت مکمل کرلیں گے اور انتخاب کا عمل مکمل ہونے کے بعد جون تک اسامیوں پر ردوبدل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت و سرمایہ کاری افسران کے لئے پالیسی کے مطابق پاکستانی تارکین وطن کے لئے 20 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ٹریڈ افسران متعلقہ ممالک کے لئے پاکستانی برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ کو یقینی نہ بنا سکے تو پھر ان ممالک میں تقرری کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ افریقی ممالک میں مزید ٹریڈ افسران تعینات کئے جائیں گے۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے ایوان کو بتایا کہ 2017-18ء میں پاکستان بیت المال کے لئے 6 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا اور اس میں سے 5 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے جبکہ 2018-19ء سے اب تک مجموعی طور پر5 ارب روپے پاکستان بیت المال کے لئے مختص کئے گئے جن میں سے اب تک 4 ارب 48 کروڑ 69 لاکھ 63 ہزار روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ معاشرے کے غریب ترین افراد کی مدد کی جائے اور انہیں خط غربت سے نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امداد حاصل کرنے والوں کے لئے تصدیق کا ایک طریقہ کار مرتب کیا گیا ہے، اس میں وقت ضرور لگتا ہے لیکن رقوم کی تقسیم کو شفاف بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی ایک اہم پروگرام ہے اور اس میں 8 لاکھ 50 ہزار غیر مستحق افراد غریبوں کے نام پر رقوم وصول کرتے رہے ہیں اس لئے شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے مستحقین کی تصدیق ضلعی سطح پر دفاتر کے ذریعے کرائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال نے ملک بھر میں دارالاحساس کے نام سے39 یتیم خانے قائم کئے ہیں اور ہر یتیم خانے میں 100 یتیم بچوں کا اندراج کیا گیا ہے اور ان یتیم خانوں میں بچوں کو گھر جیسا ماحول مہیاء کیا جاتا ہے اور ان کو مفت رہائش، کھانا اور کپڑے فراہم کئے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں 25 نئے دارالاحساس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران 75 مزید دارالاحساس قائم کئے جائیں گے۔

موضوعات: