جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

تبدیلیوں کا عمل شروع ہوچکا، آفٹر شاکس آنا شروع ہو چکے، مولانا فضل الرحمان ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے خلاف بھی بول پڑے، دھماکہ خیز بات کرڈالی

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے حالیہ کردار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو بڑی اپوزیشن جماعتیں حکومت کا حصہ لگ رہی ہیں،توقع تھی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالیں گی مگر دونوں نے قوم کو مایوس کیا۔راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے بھی عوام کو مایوس کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کا حصہ لگ رہی ہیں، ان کا آپسی انتشار حکومت کے استحکام کا سبب بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر حزب اختلاف کا حکومت کا ساتھ دینے سے نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سیاسی محاذ پر سینئر جماعت ہے اور سیاست کا طویل ترین تجربہ ہمیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ناجائز اور نااہل حکومت ملک پر مسلط ہے جبکہ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں کرب کا شکار ہے جس نے لوگوں کو خودکشی اور بچے بیچنے پر مجبور کردیا، ہمارے مالیاتی ادارے بھی بیٹھ گئے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بین الاقوامی دباؤ پر دینی مدارس کے لیے جال بچھائے جارہے ہیں اور تاثر دیا جارہا ہے کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا سبب مدارس ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور مدارس کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، اصلاحات کے لفظ کو بھی توہین سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تبدیلیوں کا عمل شروع ہوچکا ہے، آزادی مارچ کے آفٹر شاکس آنا شروع ہوچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت اسی بھارت میں مودی کی حکومت ہے اور جس طرح بھارت میں مودی کی حکومت اسی پاکستان میں عمران خان کی حکومت ہے۔جے یو آئی سربراہ نے واضح کیا کہ رہبر کمیٹی تحلیل نہیں ہوئی، اس موجود سیاسی ماحول سے ہیجان اور ناراضگیاں پیدا ہوئیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی طاقت کے ذریعے موجودہ ناجائز حکومت سے نجات حاصل کریں گے، ہم واحد لوگ ہیں جو اپنے نظریہ کی کوک سے جنم لیتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…