ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ایران سے ٹماٹر آنے سے قیمتوں میں زبردستی کمی، مقامی کاشتکار حکومت سے خفا ہو گئے

datetime 11  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنگریو (این این آئی) اندرون سندھ کی ٹماٹر منڈیوں میں ٹماٹر کے نرخوں میں زبردست کمی ہوگئی ہے آڑھتیوں نے نرخوں میں کمی کی وجہ ایران سے ٹماٹروں کی درآمد قرار دی ہے پنگریو اور اندرن سندھ کی دیگرمنڈیوں میں بیس کلو ٹماٹر کے نرخ بارہ سو روپے سے کم ہوکر سات سو روپے ہوگئے ہیں نرخوں میں ہونے والی بھاری کمی کے باعث مقامی کاشت کاروں نے ٹماٹر کی چنائی اور مارکیٹنگ میں کمی کردی ہے

دو روزقبل تک پنگریو اور اندرون سندھ کی دیگرمنڈیوں میں ٹماٹر درجہ اول کا بیس کلوکاکریٹ بارہ سو روپے کے حساب سے فروخت ہورہاتھا تاہم ان نرخوں میں اچانک زبردست کمی آنا شروع ہوگئی ہے ٹماٹر کے آڑھتیوں کے مطابق وفاقی حکومت نے ایران سے ٹماٹر درآمد کیے ہیں درآمد کردہ ٹماٹر اندرون سندھ کی منڈیوں میں پہنچنے کے بعد رسد اورطلب میں آنے والے فرق کے باعث تیزی سے نرخ گرنا شروع ہوگئے ہیں نرخ گرنے کے بعد ٹماٹر کے کاشت کاروں نے ٹماٹروں کی چنائی اور مارکیٹنگ میں کمی کردی ہے جس کی وجہ سے مقامی ٹماٹر بہت کم مقدار میں منڈیوں میں لائے جارہے ہیں اس حوالے سے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایران سے ٹماٹر درآمد کرکے ملکی کسانوں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچایا ہے کاشت کاروں کے مطابق ایرانی ٹماٹر پاکستانی ٹماٹر کے مقابلے میں کم تر ذائقے اور غذائیت کاحامل ہے وفاقی حکومت کو اپنے ملک کے کسانوں کے معاشی مفادات سامنے رکھنے چاہییں مگرحکومت اس اہم معاملے کو نظر انداز کررہی ہے اور کاشت کاردشمن پالیسیاں اپنائی جارہی ہیں جوکہ ملکی مفادات کے خلاف ہے اور ایسی پالیسیوں سے ملکی زراعت اور کاشت کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی ادھر منڈیوں میں ٹماٹر کے نرخوں میں زبردست کمی ہونے کے باوجود عام صارفین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا اورسبزی فروش بدستور مہنگے داموں پر ٹماٹر فروخت کررہے ہیں ہولسیل نرخوں میں بھاری کمی ہونے کا فائدہ عام صارفین تک نہ پہنچنے پر صارفین تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تھوک میں ہونے والی کمی کا فائدہ عام صارف تک پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…