جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ایران سے ٹماٹر آنے سے قیمتوں میں زبردستی کمی، مقامی کاشتکار حکومت سے خفا ہو گئے

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |

پنگریو (این این آئی) اندرون سندھ کی ٹماٹر منڈیوں میں ٹماٹر کے نرخوں میں زبردست کمی ہوگئی ہے آڑھتیوں نے نرخوں میں کمی کی وجہ ایران سے ٹماٹروں کی درآمد قرار دی ہے پنگریو اور اندرن سندھ کی دیگرمنڈیوں میں بیس کلو ٹماٹر کے نرخ بارہ سو روپے سے کم ہوکر سات سو روپے ہوگئے ہیں نرخوں میں ہونے والی بھاری کمی کے باعث مقامی کاشت کاروں نے ٹماٹر کی چنائی اور مارکیٹنگ میں کمی کردی ہے

دو روزقبل تک پنگریو اور اندرون سندھ کی دیگرمنڈیوں میں ٹماٹر درجہ اول کا بیس کلوکاکریٹ بارہ سو روپے کے حساب سے فروخت ہورہاتھا تاہم ان نرخوں میں اچانک زبردست کمی آنا شروع ہوگئی ہے ٹماٹر کے آڑھتیوں کے مطابق وفاقی حکومت نے ایران سے ٹماٹر درآمد کیے ہیں درآمد کردہ ٹماٹر اندرون سندھ کی منڈیوں میں پہنچنے کے بعد رسد اورطلب میں آنے والے فرق کے باعث تیزی سے نرخ گرنا شروع ہوگئے ہیں نرخ گرنے کے بعد ٹماٹر کے کاشت کاروں نے ٹماٹروں کی چنائی اور مارکیٹنگ میں کمی کردی ہے جس کی وجہ سے مقامی ٹماٹر بہت کم مقدار میں منڈیوں میں لائے جارہے ہیں اس حوالے سے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایران سے ٹماٹر درآمد کرکے ملکی کسانوں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچایا ہے کاشت کاروں کے مطابق ایرانی ٹماٹر پاکستانی ٹماٹر کے مقابلے میں کم تر ذائقے اور غذائیت کاحامل ہے وفاقی حکومت کو اپنے ملک کے کسانوں کے معاشی مفادات سامنے رکھنے چاہییں مگرحکومت اس اہم معاملے کو نظر انداز کررہی ہے اور کاشت کاردشمن پالیسیاں اپنائی جارہی ہیں جوکہ ملکی مفادات کے خلاف ہے اور ایسی پالیسیوں سے ملکی زراعت اور کاشت کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی ادھر منڈیوں میں ٹماٹر کے نرخوں میں زبردست کمی ہونے کے باوجود عام صارفین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا اورسبزی فروش بدستور مہنگے داموں پر ٹماٹر فروخت کررہے ہیں ہولسیل نرخوں میں بھاری کمی ہونے کا فائدہ عام صارفین تک نہ پہنچنے پر صارفین تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تھوک میں ہونے والی کمی کا فائدہ عام صارف تک پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…