گرا دو عمران خان کی حکومت، توڑ دو اتحاد، بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کو وزارتیں دینے کی پیشکش کر دی

  پیر‬‮ 30 دسمبر‬‮ 2019  |  22:47

کراچی (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد ختم کرے اور حکومت کو گرانے میں ہمارا ساتھ دے۔ کراچی اور اس کے عوام کی خاطر جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں۔کر اچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انہیں دھوکا دیا ہے، اس کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے۔وفاق کی گیس کی پالیسی کی مزاحمت کرتے ہیں،ہمارے صوبے کا حق مارا جارہا ہے، آپ وہاں سے گیس چھین رہے ہیں جہاں


سے گیس پیدا ہورہی ہے۔ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگ نکالے گئے ہیں، سندھ حکومت اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرے، غریب سے ایک ہزار روپے چھیننے والے سیاستدانوں پر لعنت ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں 4 ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'اس منصوبے کو لانڈھی اور کورنگی کے ہمارے شہیدوں کے نام کرنا چاہوں گا'۔سندھ حکومت مشکل معاشی حالات ہونے کے باوجود محنت کرکے پورے صوبے میں کام کر رہی ہیں '۔ غیر ملکی جریدوں نے سندھ حکومت کی اس پالیسی کو سراہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں ترقی ہو کیونکہ یہاں پورے پاکستان کے ہر صوبے سے رکھنے والے لوگ آکر بستے ہیں تاہم ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ہمیں اپنا وفاق سے حصہ چھیننا پڑے گا'۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے متعارف کردہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طریقہ کار پر چلنے کی کراچی میں بہت صلاحیت ہے، ہمیں مل کر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے مل کر کراچی شہر کے لیے کام کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اس ملک کی عوام بہت سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، معاشی صورتحال بہت خطرناک ہے، غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے مشکلات بڑھتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ ظلم و زیادتی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اس کی مزاحمت کرتی ہے۔ غریب طبقے کیلئے دن بدن مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، حکومتی اقدامات غریب دشمنی کی علامات ہیں۔سندھ حکومت اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرے، غریب سے ایک ہزار روپے چھیننے والے سیاستدانوں پر لعنت ہو۔انہوں نے کہا کہ سکھر میں سردی کا 25 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے اور اس موسم میں کچی آبادی میں رہنے والے لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا،میں تمام عدالتی فورمز کو اس موسم اور اس وقت میں انکروچمنٹ کے کام کو روکنے کی اپیل کرتا ہوں اور میئر کراچی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سردی کی شدت میں اس کام کو روکا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی کی گیس کی پالیسی کی مزاحمت کرتے ہیں، ہمارے صوبے کا حق مارا جارہا ہے، آپ وہاں سے گیس چھین رہے ہیں جہاں سے گیس پیدا ہورہی ہے۔وفاقی حکومت کو فوری طور پر اس پالیسی کو واپس لینا ہوگا۔ جووفاقی وزیر بیانات دے رہے ہیں وہ وفاق دشمن ہیں، ان سے استعفیٰ لیا جائے، اگر استعفیٰ نہ لیا گیا تو ہم سمجھیں گے آپ ان کے موقف کو سپورٹ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ایم کیو ایم کے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے خلاف ہورہا ہے وہ روکا جاسکتا ہے وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں، عمران کی حکومت کو گرادیں '۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا 'میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم انہیں سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں بس شرط یہ ہے کہ عمران کو گھر بھیج دیں، اس صوبے کو اس کا حصہ دلوا دیں ہم ساتھ مل کر اس صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں '۔انہوں نے کہا کہ 'امید ہے آج نہیں تو کل ان کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا، پاکستان کو بچانا پڑے گا اور نیا پاکستان کو ختم کرنا پڑے گا'۔ انہوں نے کہا کہ 'کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انہیں دھوکا دیا ہے، اس کو ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یو ٹرن ہی لیں گے'۔اس سے قبل بلاول بھٹوزرداری نے کراچی کے 4 منصوبوں کا افتتاح کیا جو ایک ارب 74 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیے گئے۔ کورنگی ڈھائی نمبر پر 33 کروڑ روپے لاگت سے پل تعمیر کیا گیا، کورنگی 5 نمبر پر 33 کروڑ 40 لاکھ کی لاگت سے ایک پل بنایا گیا۔ اسی طرح حیدر علی انڈر پاس کی تعمیر پر 66 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ کینٹ سٹیشن کے اطراف سڑکوں کی تعمیرات پر 42 کروڑ خرچ ہوئے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎