جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نومبر کے مہینے میں بیرونی سرمایہ کاری کے حجم میں بڑا اضافہ، ایک ماہ میں کتنے کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، حقائق سامنے آ گئے

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ نومبر2019میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم90کروڑ41لاکھ ڈالر رہا، اسٹیٹ بینک نے فارن کرنسی قرضہ رجسٹریشن کی ذمہ داری بینکوں کوسونپ دی۔تفصیلات کے مطابق ترجمان اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ

نومبر2019میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم90 کروڑ41لاکھ ڈالر رہا، نومبر میں براہ راست سرمایہ کاری کا حجم20کروڑ ڈالر رہا۔نومبر میں حکومتی ٹی بلز، انویسمنٹ بانڈز میں 70کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی، رواں مالی اسٹیٹ بینک کے مطابق سال میں جولائی سے نومبر کے دوران2ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی۔جولائی سے نومبر کے دوران ایک ارب13کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری ریکارڈ ہوئی، رواں مالی سال5ماہ میں 85کروڑڈالرکی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی، اسٹاک مارکیٹ میں ایک کروڑ95لاکھ ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی۔علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک نے فارن کرنسی قرضہ رجسٹریشن کی ذمہ داری بینکوں کوسونپ دی، ذمہ داری کا مقصد فارن کرنسی قرضوں میں سہولت اور کاروباری ماحول میں بہتری ہے۔ایک ملین ڈالر سے زائد کے قرضوں کو اسٹیٹ بینک کے پاس رجسٹر کرانا ضروری ہوتا تھا، ایک اسٹیٹ بینک کے مطابق ملین ڈالر تک کے قرضوں سے متعلقہ بینک خود نمٹتے تھے،۔نئی ہدایات کے تحت مالیت سے قطع نظر متعلقہ بینک قرضوں کی رجسٹریشن کریں گے، بینکوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ فارن کرنسی قرضے متعلقہ قوانین کے مطابق ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…