جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز کیس، کوئی شخص اس عدالت کے عزت و وقار کے ساتھ نہیں کھیل سکتا،کیا کوئی بغیر کسی ثبوت کے سوال اٹھا سکتاہے؟

datetime 19  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ میں قاضی فائز عیسی ریفرنس کیس پر سماعت،جمعرات کو کے پی کے بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ بار کونسل کے وکیل افتخار گیلانی کے دلائل مکمل،میاں رضا ربانی اپنے دلائل موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد دیں گے۔کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت کے پی کے بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ بار کونسل کے وکیل افتخار گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ

شکایت کنندہ نے اس معاملے میں ایک صفحے کا ثبوت بھی فراہم نہیں کیا، کوئی شخص اس عدالت نے عزت و وقار کے ساتھ نہیں کھیل سکتا ہے،22 کروڑ عوام سے 17 لوگ اس عدالت عظمی کے جج ہیں،کیا کوئی ان کی عزت و وقار پر شککی بنیاد پر بغیر کسی ثبوت کے سوال اٹھا سکتا ہے؟اگر اس عدالت کی عزت نہ ہو تو معاشرے کی عزت نہیں ہوگی،معاشرے کا وقار اس عدالت کے ساتھ وابستہ ہے،یہ مقدمہ برا احساس دلا رہا ہے،اس مقدمے سے عوام کے ججز پر اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے،عوام میں اس ریفرنس اور اس پر ہونے والی پریس کانفرنس پر تعجب میں ہے،اٹارنی جنرل کی کئے جاے والی کانفرنس میں نے اپنے کیرئیر میں پہلی بار دیکھی ہے،کیا ریاست کا پرنسل لاء آفسر ایسی پریس کانفرنس کر سکتا ہے؟کبھی نہیں سنا نہ دیکھا کہ عدالتی فیصلوں پر اٹانی جنرل نے پریس کانفرنس کی ہو،ہائی کورٹس تین معزز ججز کے فیصلے پر اٹارنی جنرنل نے کانفرنس کی،ریفرنس پر نہ حکومت اور نہ صدر کے پاس آرٹیکل 209 کے تحت تحقیقات کرانے کا اختیار ہے، صدر صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو انکوائری کا کہہ سکتا ہے،میرا کام مقدمہ جیتنا نہیں بلکہ عدالت کے ساتھ مل کر معاملے کو سلجھا نہ ہے،حکومت کو انفارمیشن دینے کا اختیار نہیں،ریفرنس کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کی شفارش پر یہ شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جارہی ہے،اس میں بنیادی نقطہ یہ ہے کہ جج کی انکوائری صرف ججز ہی کریں،آئین کسی اور شخص کو جج کی انکوائری کا مجاز نہیں بناتا،یہ صرف قاضی فائز عیسی کا نہیں پورے سپریم کورٹ کا کیس ہے،

کراچی سے خیبر تک تمام بار کونسل اس مقدمے میں عدالت کے سامنے کھڑی ہیں،جسٹس افتخار چوہدری کیس اور اس کیس میں صرف اتنا فرق ہے کہ ملک بھر کے وکلاء سڑکوں کی جگہ عدالت میں کھڑے ہیں، 2007 کی ایمرجنسی سے قبل بینچ کو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ بلا آنے والی ہے،جج کی مدت ملازمت کو سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے،یہی عدلیہ کی آزادی ہے،ضی فائز ویسی کے ریفرنس میں پہلا قدم ہی شبہ پیدا کرتا ہے،جج کے خلاف انکوائری صرف سپریم جوڈیشل کانسل کرسکتی ہے نہ کہ صدر پاکستان،اس ریفرنس پر کونسل سے قبل انکوائری کروانہ ایک کرمنل عمل ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق ریفرنس وزیر اعظم سیکریٹریٹ سے آیا، آپ کے مطابق ریفرنس میں وزیر اعظم کی سفارش غیر متعلقہ ہے؟ یہ تو آپ نے بہت دلچسپ دلائل دیئے ہیں،کیا وجہ ہے کہ انکوائری کرنے کا فنکشن صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہی دیا گیا ہے۔ معاملہ کی سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے بعد تک کے لیئے ملتوی کر دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…