جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

’’ایمرجنسی کے فیصلے پر اس وقت کی کابینہ بھی ملوث ‘‘ چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے پہلے کیا چیز لے کر ریٹائرڈ ہونا چاہتے تھے ؟سینئر تجزیہ نگار امجد شعیب نے بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہاہے کہ گذشتہ ماہ چیف جسٹس پاکستان کے اشاروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی سخت فیصلہ آنے والا ہے چیف جسٹس کھوسہ ریٹائرمنٹ سے پہلے میڈل لیکر جا نا چاہتے تھے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ عدالتی تاریخ کا سیاہ باب ہے اس کو قوم نہیں بھول سکی اور بہت کوشش کے بعد بھی اس داغ کو دھویا نہیں جا سکا

ایمرجنسی نافذ کرنا پرویز مشرف کا شخصیتی فیصلہ نہیں بلکہ کابینہ کا فیصلہ تھا جس میں کابینہ نے جنرل مشرف سے سفارش کی اور پھر انہوں نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا لہذا اگر پرویز مشرف کی اگر غلطی ہے تو پھر اس وقت کی کابینہ بھی اس میں شامل تھی۔ججز کی سیاسی وابستگیاں ہیں وہ میرٹ کے اوپر نہیں چل پاتے ججز کی تعیناتی کے لئے ایک صاف و شفاف نظام اور طریقہ کار مقرر کرنے کی ضرورت ہے اسحاق ڈار اور نواز شریف کی اولادوں سمیت بہت سے لوگ ملک سے مفرور ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ان کے کیسز ان کی واپسی سے مشروط کئے گئے ہیں سیاسی جماعتیں اس فیصلے سے بہت خوش ہیں اس سے دوریاں بڑھیں گی اور فوج کا عمل دخل تھا کرپشن کی روک تھام کے لئے وہ رک جائے گا جس طرح ضمانتیں دی جار ہی ہیں مجرم اور ملزم ملک سے باہر بھیجے جا رہے ہیں اس سے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں مشرف کو سزا دینے کی حد تک تو ٹھیک ہوتا لیکن غداری کا لیبل لگانے سے فوجی جوانوں میں جو سرحدوں پر فراض انجام دے رہے ہیں ان کے مورال میں کمی آئے گی اس سے جنرل باجوہ اور تمام فوجی افسران کے اوپر پریشر آئے گا اور ان کو مشکلات پیش آئیں گی۔دوسری جانب تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ پرویز مشرف کی سزا پر فوج کا ردعمل بالکل ٹھیک ہے، یہ پلس رپورٹ ہوتی ہے یہ ٹروپس،ینگ آفیسرز کے احساسات ہیں جو پہنچائے گئے ہیں صرف ایک آدمی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، حکومت کہہ رہی ہے معاونین کا نام ڈالیں وہ بھی نہیں ڈالا جاتا،روزانہ کی بنیاد پر سماعت،ڈیفنس ٹیم کو سنتے نہیں جنرل مشرف کو ویڈیو بیان کا کیوں نہیں ٹائم دیتے،کیا ایمرجنسی ہے کہ دو دن کے اندر فیصلہ سنانا ہے۔چیف جسٹس پاکستان مُکہ اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہم جنرل کا فیصلہ سنانے والے ہیں اس سے پتا چلتا ہے آپ نے کیا سوچا ہوا تھا اور کیا فیصلہ آنے والا ہے، جب یہ چیزیں نظر آتی ہیں تو پھر انصاف نظر نہیں آتا، یہ بات غیرانسانی اور غیراخلاقی ہے اور انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…