جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

’’ایمرجنسی کے فیصلے پر اس وقت کی کابینہ بھی ملوث ‘‘ چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے پہلے کیا چیز لے کر ریٹائرڈ ہونا چاہتے تھے ؟سینئر تجزیہ نگار امجد شعیب نے بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہاہے کہ گذشتہ ماہ چیف جسٹس پاکستان کے اشاروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی سخت فیصلہ آنے والا ہے چیف جسٹس کھوسہ ریٹائرمنٹ سے پہلے میڈل لیکر جا نا چاہتے تھے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ عدالتی تاریخ کا سیاہ باب ہے اس کو قوم نہیں بھول سکی اور بہت کوشش کے بعد بھی اس داغ کو دھویا نہیں جا سکا

ایمرجنسی نافذ کرنا پرویز مشرف کا شخصیتی فیصلہ نہیں بلکہ کابینہ کا فیصلہ تھا جس میں کابینہ نے جنرل مشرف سے سفارش کی اور پھر انہوں نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا لہذا اگر پرویز مشرف کی اگر غلطی ہے تو پھر اس وقت کی کابینہ بھی اس میں شامل تھی۔ججز کی سیاسی وابستگیاں ہیں وہ میرٹ کے اوپر نہیں چل پاتے ججز کی تعیناتی کے لئے ایک صاف و شفاف نظام اور طریقہ کار مقرر کرنے کی ضرورت ہے اسحاق ڈار اور نواز شریف کی اولادوں سمیت بہت سے لوگ ملک سے مفرور ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ان کے کیسز ان کی واپسی سے مشروط کئے گئے ہیں سیاسی جماعتیں اس فیصلے سے بہت خوش ہیں اس سے دوریاں بڑھیں گی اور فوج کا عمل دخل تھا کرپشن کی روک تھام کے لئے وہ رک جائے گا جس طرح ضمانتیں دی جار ہی ہیں مجرم اور ملزم ملک سے باہر بھیجے جا رہے ہیں اس سے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں مشرف کو سزا دینے کی حد تک تو ٹھیک ہوتا لیکن غداری کا لیبل لگانے سے فوجی جوانوں میں جو سرحدوں پر فراض انجام دے رہے ہیں ان کے مورال میں کمی آئے گی اس سے جنرل باجوہ اور تمام فوجی افسران کے اوپر پریشر آئے گا اور ان کو مشکلات پیش آئیں گی۔دوسری جانب تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ پرویز مشرف کی سزا پر فوج کا ردعمل بالکل ٹھیک ہے، یہ پلس رپورٹ ہوتی ہے یہ ٹروپس،ینگ آفیسرز کے احساسات ہیں جو پہنچائے گئے ہیں صرف ایک آدمی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، حکومت کہہ رہی ہے معاونین کا نام ڈالیں وہ بھی نہیں ڈالا جاتا،روزانہ کی بنیاد پر سماعت،ڈیفنس ٹیم کو سنتے نہیں جنرل مشرف کو ویڈیو بیان کا کیوں نہیں ٹائم دیتے،کیا ایمرجنسی ہے کہ دو دن کے اندر فیصلہ سنانا ہے۔چیف جسٹس پاکستان مُکہ اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہم جنرل کا فیصلہ سنانے والے ہیں اس سے پتا چلتا ہے آپ نے کیا سوچا ہوا تھا اور کیا فیصلہ آنے والا ہے، جب یہ چیزیں نظر آتی ہیں تو پھر انصاف نظر نہیں آتا، یہ بات غیرانسانی اور غیراخلاقی ہے اور انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…