جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

’’ایمرجنسی کے فیصلے پر اس وقت کی کابینہ بھی ملوث ‘‘ چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے پہلے کیا چیز لے کر ریٹائرڈ ہونا چاہتے تھے ؟سینئر تجزیہ نگار امجد شعیب نے بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہاہے کہ گذشتہ ماہ چیف جسٹس پاکستان کے اشاروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی سخت فیصلہ آنے والا ہے چیف جسٹس کھوسہ ریٹائرمنٹ سے پہلے میڈل لیکر جا نا چاہتے تھے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ عدالتی تاریخ کا سیاہ باب ہے اس کو قوم نہیں بھول سکی اور بہت کوشش کے بعد بھی اس داغ کو دھویا نہیں جا سکا

ایمرجنسی نافذ کرنا پرویز مشرف کا شخصیتی فیصلہ نہیں بلکہ کابینہ کا فیصلہ تھا جس میں کابینہ نے جنرل مشرف سے سفارش کی اور پھر انہوں نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا لہذا اگر پرویز مشرف کی اگر غلطی ہے تو پھر اس وقت کی کابینہ بھی اس میں شامل تھی۔ججز کی سیاسی وابستگیاں ہیں وہ میرٹ کے اوپر نہیں چل پاتے ججز کی تعیناتی کے لئے ایک صاف و شفاف نظام اور طریقہ کار مقرر کرنے کی ضرورت ہے اسحاق ڈار اور نواز شریف کی اولادوں سمیت بہت سے لوگ ملک سے مفرور ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ان کے کیسز ان کی واپسی سے مشروط کئے گئے ہیں سیاسی جماعتیں اس فیصلے سے بہت خوش ہیں اس سے دوریاں بڑھیں گی اور فوج کا عمل دخل تھا کرپشن کی روک تھام کے لئے وہ رک جائے گا جس طرح ضمانتیں دی جار ہی ہیں مجرم اور ملزم ملک سے باہر بھیجے جا رہے ہیں اس سے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں مشرف کو سزا دینے کی حد تک تو ٹھیک ہوتا لیکن غداری کا لیبل لگانے سے فوجی جوانوں میں جو سرحدوں پر فراض انجام دے رہے ہیں ان کے مورال میں کمی آئے گی اس سے جنرل باجوہ اور تمام فوجی افسران کے اوپر پریشر آئے گا اور ان کو مشکلات پیش آئیں گی۔دوسری جانب تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ پرویز مشرف کی سزا پر فوج کا ردعمل بالکل ٹھیک ہے، یہ پلس رپورٹ ہوتی ہے یہ ٹروپس،ینگ آفیسرز کے احساسات ہیں جو پہنچائے گئے ہیں صرف ایک آدمی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، حکومت کہہ رہی ہے معاونین کا نام ڈالیں وہ بھی نہیں ڈالا جاتا،روزانہ کی بنیاد پر سماعت،ڈیفنس ٹیم کو سنتے نہیں جنرل مشرف کو ویڈیو بیان کا کیوں نہیں ٹائم دیتے،کیا ایمرجنسی ہے کہ دو دن کے اندر فیصلہ سنانا ہے۔چیف جسٹس پاکستان مُکہ اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہم جنرل کا فیصلہ سنانے والے ہیں اس سے پتا چلتا ہے آپ نے کیا سوچا ہوا تھا اور کیا فیصلہ آنے والا ہے، جب یہ چیزیں نظر آتی ہیں تو پھر انصاف نظر نہیں آتا، یہ بات غیرانسانی اور غیراخلاقی ہے اور انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…