جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’ مشرف کیخلاف فیصلہ افسوسناک ، فوج کی توہین ہوئی‘‘ ردِ عمل دیا وہ بہت ہلکا ہے زیادہ ہونا چاہیے۔۔۔عدالتی فیصلے پر فوج کی نامور شخصیات میدان میں آگئیں ، بڑا اعلان کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ مشرف کیخلاف فیصلہ افسوسناک ، فوج کی توہین ہوئی، آئین توڑنا ایک سزا ہے تو ہمیشہ ہونی چاہیے کبھی حلال اور کبھی حرام نہیں ہونا چاہیے جس شخص نے دو جنگیں لڑیں جس نے اولاد کا نام تک اس شہید کو لیگ کے نام پر رکھا جس نے جنگ میں ان کے ہاتھوں میں شہادت پائی ۔ مقامی اخبار جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق اگر

وہ شخص غدار ہے تو پھر ہمیں حب الوطنی کی نئے سرے سے تعریف کرنی پڑے گی کہ محب وطن کون ہوتا ہے غدار کون ہوتا ہےجب جج صاحبان نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا تو جائز ہے جب ٹیک اوور کی توثیق کر دی سپریم کورٹ ہی کے ایک بنچ نے جس میں جسٹس افتخار چوہدری بھی شامل تھے جنرل مشرف کو اجازت دی کہ اس آئین کو جب چاہیں تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔جبکہ دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے کہا کہ فوج کے ترجمان نے جو ردِ عمل دیا وہ بہت ہلکا ہے شاید اس سے زیادہ ہونا چاہیے فیصلہ آنے سے پہلے اظہار کر دیا گیا تھا کہ یہ ہونے والا ہے پھر ہم کیا سمجھیں کیا اس کورٹ کو پہلے سے ہدایات دی گئیں تھیں یا یہ سمجھیں کہ کورٹ اپنے فیصلے پر بات چیت کر رہی تھی یا افشاں کر رہی تھی طیارہ کیس والے باہر گھوم رہے ہیں مزے سے اور جو طیارہ میں موجود تھا اس پر سارا الزام لگا دیا جائے یہ کورٹ کی من مانی ہے جس ایکشن کو چاہے معاف کر دے جو لوگ ساتھ تھے ان کو مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا۔دوسری جانب میجر جنرل (ر ) محمد منشی نے کہا کہ جنرل مشرف کےحوالے سے فیصلہ غیر متوازن ہے، آئینی و قانونی تقاضے پورےنہیں کیے گئے، فیصلے سے افواج کا حوصلہ پست ہو گا، ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے،فیصلےکے پیچھے سیاسی جماعتیں اور عالمی قوتیں ہیں۔ ڈیفنس فورسز ویٹنرز ایسوسی ایشن پاکستان کے

رہنمائوں کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں لیفٹیننٹ جنرل ( ر) شاہد حمید ‘ ایئر کموڈو (ر) اظہر حیات ‘بریگیڈیر ( ر) صفدر حسین اعوان ‘ وائس ایئر مارشل انور محمود خان ‘بریگیڈیٹر (ر ) نجم الثاقب ‘ لیفٹیننٹ کرنل (ر) چوہدری محمد اسلم ‘ کرنل (ر) طاہر حسین کاردار نے شرکت کی ۔اجلاس کے بعد ایسوسی ایشن کے انفارمیشن سیکرٹری مبارک احمد اعوان نے کہا کہ پرویز مشرف کی

اس ملک کے لیے 40سالہ خدمات ہیں ، وہ آرمی چیف اور صدر پاکستان رہ چکے ہیں وہ کیسے غدار ہو سکتے ہیں ؟ مشرف کے کیس میں آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا اور انکو سنے بغیر فیصلہ دیا گیا ہے ۔جنرل مشرف محب وطن جرنیل ہیں ۔عدالت نے فیصلہ عجلت میں اور غلط وقت پر دیاہے۔ ریٹائر ڈفوجی افسران کی تنظیم پیسا کے جنرل سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) مسعود الحسن نے کہا کہ دوران سماعت اس وقت کے وزیر اعظم کو بھی سننا چاہئے تھا کہ پرویز مشرف نے ججز کے خلاف نظر بندی کا حکم از خود دیا تھا یا اس میں وزیر اعظم کی رائے شامل تھی ‘اس فیصلے میں مشرف کے وکلاء کا کوئی کردار نہیں رہا اور نہ ہی پرویز مشرف کو دفاع کا موقع دیا گیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…