جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

قبل از وقت موت کے خطرے سے زیادہ مہلک رسوائی، ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کے والدین پر الگ گاؤں بسانے کے لئے شدید دباؤ، پولیس اہلکار نے بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی) ایچ آئی وی ایڈز کے باعث قبل از وقت موت کے خطرے سے زیادہ مہلک ایچ آئی وی سے ہونے والی رسوائی ہے جولوگوں کو مار رہی ہے۔ایچ آئی وی کے بدنما داغ کے ساتھ زندگی گزارنا سب سے زیادہ تکلیف دہ شے ہے۔ رتوڈیرو میں جہاں سیکڑوں بچے اپنی کسی غلطی یا کوتاہی کے بغیر اس لاعلاج بیماری کا شکار ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں نے متاثرہ خاندان سے متنفر اور خاموش سماجی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کے عزیز و اقارب بھی ان کے خلاف گروہ بندی کررہے ہیں۔لوگوں کا مطالبہ ہے کہ وہ یا تو اپنے آبائی علاقوں میں چلے جائیں یا پھر سماجی بائیکاٹ کا سامنا کریں۔ رتو ڈیرو سے 6 کلومیٹر دور واقع سبحانی خان شیر کے 30 متاثرہ خاندانوں سے 6 ماہ سے اچھوتوں جیسا طرزعمل اختیار کیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ وبا کے دوران ان خاندانوں کے 32 بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔متاثرہ بچوں کے والدین پرگاؤں چھوڑنے کے لیے مسلسل دباؤ ہے تاکہ علاقہ کے دوسرے بچے صحت مند رہ سکیں۔ سبحانی خان شیر کے ایک 32 سالہ پولیس اہلکار نے انکشاف کیا کہ ایچ آئی وی وائرس کے شکاربچوں کے والدین کو گاؤں چھوڑنے اور اپنا الگ گاؤں بسانے کے لیے مسلسل دباؤہے جب کہ کچھ خاندان ہجرت بھی کرگئے ہیں۔ایک اورمتاثرہ والد دل مراد گھنگرو نے بتایاکہ ہمارے بچے معصوم اور اس سماجی خلا سے انجان ہیں۔ ان بچوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹر عمران اکبر اربانی نے بتایا کہ رویئے پر متاثرہ خاندانوں نے آپسی میل جول بنا لیا ہے۔دوسری جانب سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن نے کہا کہ ایچ آئی وی متاثرین سے نفرت کی روک تھام کے لئے ہم علما کی خدمات لے رہے ہیں۔ تاہم سماجی روایات ہماری مہم سے زیادہ مضبوط ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…