جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پی آئی سی واقعہ، معاملہ کیسے شروع ہوا؟ وکلاء کے دھاوے سے اب تک کتنی ہلاکتیں ہو چکی ہیں؟ عثمان بزدار تمام مصروفیات ترک کرکے لاہور پہنچ گئے

datetime 11  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)ڈاکٹروں کی جانب سے مبینہ طور پر اشتعال انگیز ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے پر وکلاء نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بول دیا، ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی،علاج معالجہ معطل ہونے سے مبینہ طور پر چار مریض جاں بحق ہو گئے،مشتعل وکلاء نے پولیس موبائل کو نذر آتش کردیا اورصوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان اور میڈیا نمائندوں کو بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا،

وکلاء نے ہسپتال کی ایمر جنسی اور دیگر شعبوں میں داخل ہو کربد ترین ہنگامہ آرائی کی اور شیشے اور فرنیچر توڑ دیا، وکلاء کی جانب سے احتجاج کے دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، وکلاء کی جانب سے ہسپتال پر پتھراؤ کے بعد پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ او رلاٹھی چارج کیا،پتھراؤ کی وجہ سے عام شہریوں کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا،پولیس نے توڑ پھوڑ کرنے والے متعدد وکلاء کو گرفتار کر لیا، گرینڈ ہیلتھ الائنس کی کال پر ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس اور نرسز نے بھی ہڑتال کر دی، وزیر اعظم عمران خان اوروزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پی آئی سی میں پیش آنے والے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی جبکہ اسلام آباد میں موجود وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے واپس لاہور پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق وکلاء نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیواپ لوڈ کرتے ہوئے پی آئی سی آنے کاچیلنج کیا گیا جس پر بڑی تعداد میں وکلاء لاہور بارسے ریلی کی صورت میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیلئے روانہ ہوئے جس کی وجہ سے شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا۔ وکلاء کے احتجاج کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری پی آئی سی کے باہر پہنچ گئی اور رکاوٹیں کھڑی کر کے مرکزی دروازے کوبند کر دیا گیا۔ وکلاء نے کچھ دیر تک ہسپتال کے باہر مخالفانہ نعرے بازی کی اور بعد ازاں مشتعل ہو کر مرکزی دروازے کو توڑدیا اور اندر داخل ہو گئے اورہنگامہ آرائی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی جبکہ وکلاء کی جانب سے ہسپتال پر شدید پتھراؤ کیا گیا جس سے ایمر جنسی اور دیگر وارڈز کے شیشے ٹوٹ گئے۔

اسی دوران ہسپتال میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور نرسز اپنے جانیں بچانے کیلئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ پولیس نے وکلاء کے پتھراؤ کے جواب میں آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ ہسپتال کے اندر موجود ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس نے بھی پتھراؤ شروع کر دیا جس کے بعد مشتعل وکلاء ہسپتال کے اندرداخل ہو گئے اور پی آئی سی کی ایمر جنسی اور دیگر شعبوں میں شیشے اور فرنیچر توڑنا شروع کر دیا جبکہ مبینہ طو رپر مریضوں کے لواحقین کوبھی تشددکا نشانہ بنایا۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق پرتشدد مظاہرے کے دوران 4 مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔ وکلاء کے احتجاج اور پتھراؤ اور پولیس سے جھڑپوں کی وجہ سے پی آئی سی اور جیل روڈ میدان جنگ بنا رہا جبکہ موقع ملتے ہی لواحقین اپنے مریضوں کو وہاں سے دوسرے ہسپتال منتقل کرتے رہے۔ وکلاء کی جانب سے احتجاج کے دوران اسلحہ سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس کی فوٹیج منظر عام پر آ گئی۔پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج اور شیلنگ کے دوران کئی وکلاء جیلانی پارک میں چھپ گئے

تاہم پولیس نے ان کا تعاقب کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔ وکلاء کی جانب سے پتھراؤ کی وجہ سے عام شہریوں کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔مریضوں کے ساتھ آنے والے لواحقین بھی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے وکلاء کو قابو کر لیااور ان کی درگت بنائی۔ اسی دوران صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان ہنگامہ آرائی کو کنٹرول کرنے کی غرض سے پی آئی سی پہنچے تاہم مشتعل وکلاء نے انہیں بھی قابو کر لیا اور انہیں غلیظ گالیاں دیتے ہوئے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے بال نوچے ۔وکلاء نے ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس موبائل کوبھی نذر آتش کردیا گیا جبکہ اس دوران میڈیا نمائندوں کوبھی تشدد کانشانہ بنایاگیا جبکہ نجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر سے موبائل بھی چھین لیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدار نے پی آئی سی میں پیش آنے والے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ اسلام آباد میں موجود وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے واپس لاہور پہنچ گئے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدبھی پی آئی سی پہنچیں اورڈاکٹروں اور مریضوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نے زبردستی علاج معالجہ معطل کیا،ذمہ داروں سے کوئی رعایت نہیں برتیں گے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے گا۔مذکورہ واقعے کے بعد لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر اور سیکرٹری پی آئی سی ہسپتال پہنچے اور وکلا ء کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔واقعہ کے بعد گرینڈہیلتھ الائنس کی جانب سے بھی ہڑتال کااعلان کردیا گیا۔وکلاء نے سول سیکرٹریٹ کے باہر بھی دھرنا دے کر احتجاج کیا اور نعر ے بازی کی۔ وکلاء نے جی پی او چوک میں بھی جمع ہو کر احتجاج کیا اور آج جمعرات کے روز مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…