آئین کے ارٹیکل 161 ون کی شق بی پر عمل درآمد،خیبرپختونخواحکومت نے وفاق سے پیٹرول پر فی لیٹر مزیدٹیکس لگاکررقم صوبائی حکومت کو دینے کا مطالبہ کردیا

  جمعرات‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2019  |  23:19

پشاور (آن لائن) صوبائی حکومت نے وفاق سے پیٹرول پر فی لیٹر ایک روپے ٹیکس کامطالبہ کرتے ہو ئے اس کے ضمن میں 95ارب روپے کے بقایا جات وفاق سے طلب کر لئے ہیں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 95ارب روپے وفاق سے طلب کئے گئے ہیں ذرائع کے مطابق اس معاملے کو 11دسمبرکو ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بھی پیش کیا جائے گا چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تقریبا 9 سال 18 ویں آئینی ترمیم کو منظور ہو ئے ہو چکے


ہیں وفاقی حکومت نے ابھی تک آئین کے ارٹیکل 161 ون کی شق بی پر عمل درآمد شروع نہیں کیا ہے اسلئے خیبر پختونخوا آئین کی اس شق پر عمل درآمد کا فوری مطالبہ کرتی ہے اور فی بیرل پٹرول پر ایک ہزار روپیہ ڈیوٹی عائد کر کے صوبوں کو دی جائے اور گزشتہ 9 سال کے بقایا جات بھی ادا کئے جائیں۔ اس بارے میں خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کے پی سے جو پٹرول کی پروڈکشن ہوئی ہے اس حساب سے ان کو پیسے دئیے جائیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ فی لیٹر پٹرول پر ایک روپیہ صوبائی حکومت کا حق بنتا ہے ان کو فوری طور پر ادائیگی شروع کی جائے۔ تاہم اس بارے میں وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے مطابق بقایا جات کے ایشو تو اپنی جگہ ہیں وفاقی حکومت اگر خیبر پختونخوا یہ بات مانتی ہے تو اس ایک روپیہ فی لیٹر عوام سے وصول کرنے کی صورت میں پٹرول مزید مہنگا کرنا پڑے گا کیونکہ وفاقی حکومت کے پاس اتنا زیادہ گنجائش فنڈز کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ صوبوں کو رقم اسطرح دے تاہم ماضی کی حکومتوں جس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن نے بھی اس مسئلہ کو حل اسی وجہ سے نہیں کیا تھا تاہم حتمی فیصلہ مشترکہ مفادات کی کونسل نے کرنا ہے۔


موضوعات: