جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

آئین کے ارٹیکل 161 ون کی شق بی پر عمل درآمد،خیبرپختونخواحکومت نے وفاق سے پیٹرول پر فی لیٹر مزیدٹیکس لگاکررقم صوبائی حکومت کو دینے کا مطالبہ کردیا

datetime 5  دسمبر‬‮  2019 |

پشاور (آن لائن) صوبائی حکومت نے وفاق سے پیٹرول پر فی لیٹر ایک روپے ٹیکس کامطالبہ کرتے ہو ئے اس کے ضمن میں 95ارب روپے کے بقایا جات وفاق سے طلب کر لئے ہیں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 95ارب روپے وفاق سے طلب کئے گئے ہیں ذرائع کے مطابق اس معاملے کو 11دسمبرکو ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بھی پیش کیا جائے گا

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تقریبا 9 سال 18 ویں آئینی ترمیم کو منظور ہو ئے ہو چکے ہیں وفاقی حکومت نے ابھی تک آئین کے ارٹیکل 161 ون کی شق بی پر عمل درآمد شروع نہیں کیا ہے اسلئے خیبر پختونخوا آئین کی اس شق پر عمل درآمد کا فوری مطالبہ کرتی ہے اور فی بیرل پٹرول پر ایک ہزار روپیہ ڈیوٹی عائد کر کے صوبوں کو دی جائے اور گزشتہ 9 سال کے بقایا جات بھی ادا کئے جائیں۔ اس بارے میں خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کے پی سے جو پٹرول کی پروڈکشن ہوئی ہے اس حساب سے ان کو پیسے دئیے جائیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ فی لیٹر پٹرول پر ایک روپیہ صوبائی حکومت کا حق بنتا ہے ان کو فوری طور پر ادائیگی شروع کی جائے۔ تاہم اس بارے میں وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے مطابق بقایا جات کے ایشو تو اپنی جگہ ہیں وفاقی حکومت اگر خیبر پختونخوا یہ بات مانتی ہے تو اس ایک روپیہ فی لیٹر عوام سے وصول کرنے کی صورت میں پٹرول مزید مہنگا کرنا پڑے گا کیونکہ وفاقی حکومت کے پاس اتنا زیادہ گنجائش فنڈز کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ صوبوں کو رقم اسطرح دے تاہم ماضی کی حکومتوں جس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن نے بھی اس مسئلہ کو حل اسی وجہ سے نہیں کیا تھا تاہم حتمی فیصلہ مشترکہ مفادات کی کونسل نے کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…